خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 394
خطبات ناصر جلد دوم ۳۹۴ خطبه جمعه ۸ / نومبر ۱۹۶۸ء ط تو وہ ہر قسم کی مضرتوں سے ہمیں محفوظ رکھ سکتا ہو لیکن اگر ہمارا تو کل اور بھروسہ اللہ تعالیٰ پر ہو تو ہم اسی معنی میں ہر قسم کی مضرتوں سے محفوظ رہیں گے کہ اگر امتحان کے طور پر کوئی مضرت پہنچے تو اس انعام کے مقابلہ میں جو اس کے نتیجہ میں ہمیں پہنچتا ہے اس کو مضرت دکھ یا درد نہیں کہا جاسکتا کیونکہ اس مضرت میں بھی بڑی لذت اور سرور ہوتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ سورۃ مجادلہ میں فرماتا ہے۔وَلَيْسَ بِضَارِهِمْ شَيْئًا إِلَّا بِإِذْنِ اللهِ وَعَلَى اللهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ (المجادلة: ١١) کہ منکر اسلام اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر اسلام اور مسلمانوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا اس لئے مومن کو چاہیے کہ صرف اللہ تعالیٰ پر توکل کرے ابتلا اور امتحان میں بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتے ہیں مگر وہ اس لئے نہیں آتے کہ وہ اسلام یا مسلمانوں کو نا کام کر دیں بلکہ وہ اس لئے آتے ہیں کہ جو مقصد اللہ تعالیٰ نے اس وقت پورا کرنا چاہا ہے وہ حاصل ہو اور خدا تعالیٰ کے مقرب بندوں کی خوبیاں دنیا پر ظاہر ہوں اور دنیا جان لے کہ خدا تعالیٰ کے یہ بندے انتہائی دکھوں اور تکلیفوں کے وقت بھی بے وفائی نہیں کیا کرتے بلکہ پختگی کے ساتھ اسی کے دامن سے چھٹے رہتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں وہ با وفا بھی وفا کا سلوک کرتا اور ان کے ذریعہ سے دنیا میں اپنے مقصد کو پورا کرتا اور ان کے ذریعہ سے دنیا میں اپنے انعاموں کی بارش برساتا ہے اور ان پر اپنے انعام اور احسان کو کمال تک پہنچا دیتا ہے پس محض اللہ پر اور صرف اللہ پر ہی تو کل اور بھروسہ رکھنا چاہیے۔اسی طرح فرمایا۔وَدَعْ أَذْهُمْ وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللهِ (الاحزاب : ۴۹) ان کی ایذا دہی کو نظر انداز کر دو کیونکہ وہ اس قابل ہی نہیں ہے کہ انسان اس کی طرف متوجہ ہو تو گل عَلَى اللهِ اللہ پر توکل رکھو اور اگر تم اللہ تعالیٰ پر تو گل رکھو گے تو تمہیں یہ معلوم ہو جائے گا تم پر یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ اللہ تعالیٰ ہی کارسازی میں کافی ہے اس کی مدد سے انسان اپنے مقصد کو حاصل کرتا ہے اور اسے چھوڑ کر اسے کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا۔پھر ایک اور خرابی جود نیوی سہاروں میں پائی جاتی ہے اور یہاں نہیں پائی جاتی ہے یہ ہے کہ دنیا میں بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جب دوسرے لوگ ان کو اپنا سہارا بنالیں ان کے ساتھ لگ جائیں ان کی خدمات کریں ان کی خوشامد کریں وغیرہ وغیرہ تو ان کو کچھ دنیوی فیض تو ان سے