خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 359 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 359

خطبات ناصر جلد دوم ۳۵۹ خطبه جمعه ۲۵ /اکتوبر ۱۹۶۸ء کے نوٹوں پر مشتمل تھی چور نے یہ تھوڑی رقم چوری کر لی اور بڑی رقم چھوڑ کر چلا گیا وہ کہنے لگا ہم نے اللہ تعالیٰ کے رستہ میں دی ہوئی رقم کی برکت دیکھ لی گوا بھی انہوں نے وہ رقم خدا کی راہ میں دینے کی نیت ہی کی تھی ابھی وہ رقم خدا تعالیٰ کے خزانہ میں نہیں پہنچی تھی۔غرض اللہ تعالیٰ بتاتا ہے کہ میں ہی تمہارے اموال کی حفاظت کر رہا ہوں اگر میں حفاظت نہ کروں تو انہیں آگ لگ جائے وہ چوری ہو جائیں یا گھر میں کسی کو بیماری آ جائے اور اس پر اموال کا ایک حصہ خرچ ہو جائے مثلاً بڑا پیارا بچہ بیمار ہو جائے باپ امیر آدمی ہے اس کو ہم نے کہا کہ تحریک جدید میں تمہیں اپنی حیثیت کے مطابق چار یا پانچ سوروپیہ دینا چاہیے اس نے اس کی کوئی پروا نہیں کی اب بچہ بیمار ہو گیا اور وہ اسے راولپنڈی، لاہور اور کراچی میں بہترین ڈاکٹروں کو دکھا رہا ہے اور ہزار دو ہزار روپیہ اس کا خرچ ہو جاتا ہے اب بچہ کو صحت مند رکھنے کا اس نے ٹھیکہ تو نہیں لیا ہوا اللہ تعالیٰ کی مرضی ہے وہ اسے صحت مند رکھے یا نہ رکھے لیکن جو لوگ بشاشت سے خدا تعالیٰ کی راہ میں قربانیاں دیتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے اموال میں برکت ڈالتا ہے اور اگر کبھی انہیں آزمانا ہو تو ان کو ثبات قدم عطا کرتا ہے اور وہ اپنے رب پر اعتراض نہیں کرتے۔اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو بھی آزماتا ہے وہ ان کا بھی امتحان لیتا ہے لیکن وہ بشاشت کے ساتھ یہی کہتے ہیں کہ اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رجِعُونَ (البقرۃ: ۱۵۷) اللہ ہی مالک ہے اور اسی سے ہم نے خیر و برکت لینی ہے اگر اس نے ایک چیز لے لی تو اس سے ہمارا خزانہ تو خالی ہو گیا مگر اس کے خزانے کبھی خالی نہیں ہوتے وہ پانچ سولے گا تو پانچ لاکھ دے گا بھی۔چنانچہ ہماری جماعت میں بھی اس نے بہتوں کو ان کی قربانیوں کے نتیجہ میں بہت زیادہ دیا ہے۔غرض اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم بخل کرو گے تو اس کا نتیجہ بھی تمہیں خود ہی بھگتنا پڑے گا کیونکہ اللہ کسی کا محتاج نہیں تم سے اگر قربانیوں کا مطالبہ کیا جاتا ہے تو وہ مطالبہ اس لئے نہیں کیا جاتا کہ نعوذ باللہ کہ خدا غریب اور فقیر تھا اور تم اس کو مالی امداد دے کر اسے تھوڑا سا امیر بنانا چاہتے ہو اور اس کی ضرورتوں کو پورا کر رہے ہو انتم الفقراء سچی بات یہی ہے کہ تمہیں ہر آن ہر لمحہ اور ہر چیز کے لئے اللہ تعالیٰ کی احتیاج ہے اگر تم اس نکتہ کو سمجھو گے نہیں تو اللہ تعالیٰ تم سے برکتیں چھین لے گا