خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 356
خطبات ناصر جلد دوم ۳۵۶ خطبه جمعه ۲۵/اکتوبر ۱۹۶۸ء کے نور کو دیکھا ہے اور اللہ اور اس کی صفات کو پہچانا ہے وہ کہتے ہیں کہ ہمارے بھائی بدقسمت ہیں انہیں خوش قسمت بنانے کے لئے اور کوشش کرو غرض ہر چیز جو ہمارے لئے فخر کا باعث بنتی ہے وہ ایک دوسرے زاویہ نگاہ سے ہماری ضرورت کا اظہار کر دیتی ہے اس ضرورت کو پورا کرنے کے لئے ہمیں مزید قربانیاں دینی پڑیں گی ورنہ ہمارا انجام بخیر نہیں ہو گا۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ہمیں بار بار یہ کہا ہے کہ انجام بخیر ہونے کی دعا مانگو کیونکہ وہ کام جو ستر فیصد ہو جاتا ہے اور ۱۰۰ فیصد ہونے سے رہ جاتا ہے وہ ایک فیصد بھی نہیں ہوتا ایک شخص دس پرچے دیتا ہے ان دس پر چوں میں سے وہ نو میں کامیاب ہو جاتا ہے (اور یہ نوے فیصد کامیابی ہوگئی ) لیکن دسویں پرچہ میں فیل ہو جاتا ہے تو جن نو پر چوں میں کامیاب ہوا تھا عملاً ان میں بھی فیل ہو گیا اسے اگلی کلاس میں نہیں چڑھایا جائے گا پس انجام بخیر ہونا چاہیے یعنی ہر کوشش ہر جد و جہد اور ہر سٹرگل (Struggle) اپنے کامیاب انجام تک پہنچنی چاہیے اگر وہ کامیاب انجام سے ایک قدم پہلے رُک جاتی ہے تو ہماری ساری کوشش ضائع ہو جاتی ہے۔اس لئے ضروری ہے کہ ہماری پہلی کوشش کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے جو فضل کیا ہے اور اسلام کو غالب کرنے کے جو سامان پیدا کئے ہیں ان ضرورتوں کو ہم پورا کریں اور وقت کے تقاضا کو پورا کرتے ہوئے ہم ہر اس قربانی کو خدا کے حضور پیش کر دیں جس کا آج کی ضرورت تقاضا کرتی ہے اگر ہم آج کی ضرورت کا تقاضا پورا نہیں کرتے تو پہلے جو تقاضے ہم نے پورے کئے وہ بھی رائیگاں جائیں گے کیونکہ ان کا آخری اور حقیقی نتیجہ نہیں نکلے گا لیکن اگر ہم اپنی پہلی کوششوں کے نتیجہ میں اپنی بڑھتی ہوئی ضرورتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے آج کی ضرورتوں کو پورا کر دیں تو پھر ہمارا ایک قدم آگے بڑھ گیا اور پھر اگلے سال ہمارا ایک قدم اور آگے بڑھ جائے گا یہاں تک کہ ساری دنیا میں اسلام غالب آ جائے گا اور ساری دنیا کے دلوں میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت پیدا ہو جائے گی ادیان باطلہ کبھی اپنے علمی گھمنڈ میں کبھی سائنسی تکبر کے نتیجہ میں اور کبھی سیاسی اقتدار پر ناز کی وجہ سے اسلام کو مٹانا چاہتے ہیں اللہ تعالیٰ کا فضل شامل حال ہو تو اللہ تعالیٰ آپ کے ذریعہ ان سارے منصوبوں کو نا کام کر دے اور اسلام کو غالب کر دے گا اور اسی طرف آپ کو بلایا جا رہا ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے فَانْتُمْ هُؤُلَاءِ تُدْعَونَ لِتُنْفِقُوا فِي