خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 352
خطبات ناصر جلد دوم ۳۵۲ خطبه جمعه ۲۵/اکتوبر ۱۹۶۸ء لاکھ پچپن ہزار روپیہ ہے اور دفتر دوم میں شامل ہونے والوں کے وعدے تین لاکھ چون ہزار ہیں اور دفتر سوم میں شامل ہونے والوں کے وعدے اکتالیس ہزار ہیں اگر مختلف دفاتر میں شامل ہونے والوں کی اوسط فی کس آمد نکالی جائے تو دفتر اول کے مجاہدین کی اوسط ۶۴ روپے بنتی ہے بہت سے احباب اس سے بہت زیادہ دیتے ہوں گے اور جو غریب ہیں وہ اپنی طاقت اور وسعت کے مطابق ہی تحریک جدید میں حصہ لیتے ہوں گے لیکن اوسط ان کی ۶۴ روپے فی کس بنتی ہے اس کے مقابلہ میں دفتر دوم کے مجاہدین کے تحریک جدید کے چندہ کی اوسط انیس روپے بنتی ہے اور ۶۴ روپے اوسط کے مقابلہ میں یہ بہت کم ہے۔دونوں دفاتر کی اوسط میں بڑا فرق ہے دفتر سوم کے مجاہدین مال کی اوسط چودہ روپے فی کس بنتی ہے اس میں اور دفتر دوم کی اوسط میں فرق تو ہے لیکن زیادہ فرق نہیں خصوصاً جب یہ بات ہمارے مد نظر رہے کہ اس میں شامل ہونے والے بہت سے بچے بھی ہیں جنہوں نے ابھی کمانا شروع نہیں کیا ان کے والدین ان کی طرف سے کچھ چندہ تحریک جدید میں ادا کر دیتے ہیں اور جو کمانے والے ہیں وہ اپنی کمائی کی عمر کے ابتدائی دور میں سے گزر رہے ہیں کیونکہ دنیا کا یہ قاعدہ ہے کہ جب کوئی انسان ملازمت کرتا ہے تو اسے عام طور پر گریڈ ڈ (Graded تنخواہ ملتی ہے جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کی تنخواہ کا ابتدائی حصہ اسے ملتا ہے اور پھر ہر سال ترقی ہوتی رہتی ہے اس طرح اس کی آمد اس کی تعلیم ، قابلیت اور استعداد کے لحاظ سے کم ہوتی ہے پھر جوں جوں اس کا تجربہ اور عمر بڑھتی جاتی ہے اس کی آمد میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے اور اگر ساتھ ہی اخلاص بھی اپنی جگہ قائم رہے تو اس کے چندہ میں بھی اضافہ ہوتا جاتا ہے لیکن بسا اوقات اللہ تعالیٰ تھوڑی نیکی کرنے والوں کو نیکیوں کی مزید توفیق عطا کرتا ہے اخلاص کی نسبت بھی بڑھ جاتی ہے اور ان کے چندے بھی بڑھ جاتے ہیں۔اس لحاظ سے جب میں نے غور کیا تو میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ ہم آج دفتر دوم میں شامل ہونے والوں سے یہ امید نہیں کر سکتے کہ ان کی اوسط بھی ۶۴ روپے فی کس تک پہنچ جائے کیونکہ ان میں عمر اور ادھیڑ عمر کے بھی ہیں کم تربیت یافتہ بھی ہیں اور بعد میں داخل ہونے والے بھی ہیں