خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 349
خطبات ناصر جلد دوم ۳۴۹ خطبه جمعه ۱۸ /اکتوبر ۱۹۶۸ء پس ابھی سے اپنی اور اپنے بچوں کی تربیت کریں اور ان کو خدا کی راہ میں خرچ کرنے کی عادت ڈالیں۔وقف جدید کی رقم اس وقت تھوڑی ہے کہ میں سمجھا تھا اسے بچوں کو خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کی عادت ڈالنے کے لئے استعمال کرنا چاہیے ڈیڑھ لاکھ دولاکھ روپیہ چندہ تو کچھ بھی نہیں اور پھر خاص طور پر جماعت کی موجودہ اقتصادی حالت کے لحاظ سے۔خدا تعالیٰ کا جماعت پر بڑا فضل ہے پچھلے سال میں نے ایک ضلع کی زمین کی ملکیت کے متعلق اندازہ لگایا تھا کہ اگر ہمارے دوست دیسی بیج کی بجائے میکسی پاک اور انڈس بیج بوئیں تو اگر اخلاص اتنا ہی رہے جتنا اب ہے تو اس ضلع کی جماعت کی آمدنی گندم سے اتنی بڑھ جاتی ہے کہ اس کا چندہ بڑھ کر دس لاکھ ہو جائے گا غرض اللہ تعالیٰ نے اتنا فضل کیا اور یہ کوئی بڑی رقم نہیں جو بچوں سے مانگی جارہی ہے۔یہ رقم مانگی بچوں سے جارہی ہے اور بچوں کے ہاتھ سے ہمیں ملنی چاہیے ایک بچہ جو بالکل چھلے کا ہی ہو ماں اگر چاہے تو اس کے ہاتھ سے چندہ دلوا سکتی ہے۔کیا ہم پیدائش کے وقت اس کے کان میں اذان نہیں کہتے آپ اس کے ہاتھ میں اٹھنی پکڑا دیں یا دو مہینہ کا چندہ اکٹھا دینا ہو تو روپیہ کا نوٹ اس کے ہاتھ میں دے دیں اور آگے کر دیں اور لینے والے سے کہیں اس سے لے لو اللہ تعالیٰ اس میں برکت ڈالے گا مگر لینا ہم نے بچہ سے ہی ہے۔ہاں !ذمہ داری بہر حال والدین اور سر پرستوں پر ہی ہے۔پس میں جماعت کے احباب کو توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ وہ اس طرف فوری طور پر متوجہ ہوں کیونکہ ابھی پچاس ہزار روپیہ سے صرف گیارہ ہزار وصول ہوا ہے اور آپ وصولی کو سال رواں میں پچاس ہزار تک بہر حال آپ کو پہنچانا چاہیے اللہ تعالیٰ آپ کو بھی توفیق دے اور مجھے بھی توفیق دے کہ ہم ذمہ واری کو سمجھیں اور اسے اس رنگ میں نبھائیں کہ وہ ہم سے خوش ہو جائے اور اس کی رضا ہمیں حاصل ہو جائے۔روزنامه الفضل ربوه ۲۶ اکتوبر ۱۹۶۸ ء صفحه ۲ تا ۶ )