خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 348 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 348

خطبات ناصر جلد دوم ۳۴۸ خطبه جمعه ۱۸ اکتوبر ۱۹۶۸ء صرف دعوئی سے نتیجہ نہیں نکلا کرتا۔یہ مادی دنیا عمل کی دنیا ہے جو شخص عمل ( دعا بھی ایک عمل ہے جب میں عمل کہتا ہوں تو میری مراد ہر اس عمل سے ہے جس کے کرنے کی ہمیں اللہ تعالیٰ نے توفیق دی ہے اور جس کے کرنے کا اس نے ہمیں حکم فرمایا ہے ) کرتا ہے تو اس عمل کا ہی نتیجہ اُسے ملتا ہے جو شخص یہ کہے کہ مسجد میں باجماعت نماز پڑھنی چاہیے سوائے عذر معقول کے اور صبح شام تک وہ یہ وعظ کرتا رہے لیکن ایک نماز بھی مسجد میں پڑھنے نہ آئے تو کیا آپ سمجھتے ہیں اس کو باجماعت نماز کا ثواب مل جائے گا؟ اس لئے کہ بارہ گھنٹے اس کے منہ سے ایسے فقرات نکلتے رہے کہ مسجد میں جا کر نماز پڑھنی چاہیے ، ہر گز نہیں پس اگر آپ کے دل میں یہ احساس ہو کہ کہیں ہمارے بچوں کو بخل کی عادت نہ پڑ جائے اور اس عادت میں وہ پختہ نہ ہو جا ئیں تو مہینہ میں ایک اٹھتی (یا جو اور بھی غریب ہیں یعنی جو خاندان اقتصادی لحاظ سے اچھے نہیں ان کے متعلق میں نے کہا ہے کہ ایک خاندان کے سارے بچے مل کر ایک اٹھتی مہینہ میں دیں) ایسی چیز نہیں جو بوجھ معلوم ہو صرف توجہ کی کمی ہے اور یہ حالت دیکھ کر مجھے شرم آتی ہے پس میں بچوں کو بھی اور ان کے والدین اور سر پرستوں کو بھی اس طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ ہم نے آہستہ آہستہ عادت ڈال کر وقف جدید کے نظام کو مالی لحاظ سے بچوں کے سپر د کر دینا ہے تو ابھی تو ابتدا ہے اور پچاس ہزار روپیہ کی رقم ان کے لئے مقرر کی گئی ہے لیکن یہ رقم دولاکھ اڑھائی لاکھ یا تین لاکھ ہو جائے گی۔ضرورتیں بڑھیں گی تو قربانی کا جذ بہ بھی بڑھے گا اور ایثار بھی بڑھے گا اور چندہ بھی بڑھتا جائے گا۔اللہ تعالیٰ جماعت کے بچوں کو توفیق دے گا کہ وہ اس چندہ میں زیادہ سے زیادہ حصہ لیں اور یہ کوئی ایسی رقم نہیں ہے جو ادا نہ ہو۔اس وقت جماعت کی جو اقتصادی حالت ہے اس کو سامنے رکھیں تو یہ مشکل امر نہیں کہ بچے اس بوجھ کو اٹھا لیں لیکن وہ تو بچے ہیں اصل ذمہ داری تو ان کے سر پرستوں اور والدین پر ہے ایک بچہ مثلاً پانچ سال کا ہے اب اللہ تعالیٰ اس سے یہ نہیں پوچھے گا کہ تم نے میری راہ میں قربانی کیوں نہیں دی کیونکہ ہر نیک عمل کی ایک بلوغت ہوتی ہے اور وہ ابھی مالی قربانی کی بلوغت کو نہیں پہنچا جب وہ اس بلوغت کو پہنچے گا تو اگر آپ نے اس کی تربیت نہیں کی اور اس میں بخل پیدا ہو گیا اور بخل کی عادت پختہ ہو گئی تو پھر جس طرح وہ خدا کے سامنے جواب دہ ہو گا آپ بھی جواب دہ ہوں گے۔