خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 20 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 20

خطبات ناصر جلد دوم خطبه جمعه ۲۶ / جنوری ۱۹۶۸ء کے لئے چھ سو احمدی بہنیں وقت سے پہلے اپنی رضا کارانہ خدمات پیش کر دیں اور رجسٹروں میں ان کے نام جماعت کے لحاظ سے درج ہونے چاہئیں تا ضرورت پڑنے پر وہ روٹیاں پکا سکیں۔سکیم پہلے سے تیار ہو جائے کہ مثلاً چک منگلا سے اتنی عورتیں بوقتِ ضرورت روٹی پکانے کے لئے تیار ہیں اور چولہے ان کے مقررہوں یہ نہیں کہ سکیم اس وقت بنائی جائے جب ضرورت پڑے سیکیم پہلے سے تیار ہونی چاہیے۔اگر خدانخواستہ ہمیں ضرورت پڑے تو ان بہنوں کو پتہ ہو کہ مثلاً چولہا نمبر ۱۵ نمبر ۱۶ نمبر ۱۷، نمبر ۱۸ یا نمبر ۱۹ ہمارے لئے ریزرو ہے وہ وہاں جائیں اور روٹی پکانا شروع کر دیں۔۳۰۰ ایک وقت میں اور ۳۰۰ دوسرے وقت میں۔ہمیں ہر چیز کے لئے تیار رہنا چاہیے خدا تعالیٰ نے ہمیں فراست اور عقل اور ہمت دی ہے اور اس لئے دی ہے کہ دنیا یہ دیکھے کہ یہ ایک ایسی قوم ہے جو آزمائش اور امتحان کے وقت نا کام ہونا جانتی ہی نہیں نا کامی ان کی قسمت میں نہیں ہے۔چوتھی ہدایت میری یہ ہے کہ ایک چھوٹی سی مشین روٹی پکانے کے لئے اس سال ضرور خرید لی جائے۔ایسی مشین جس پر ایک وقت میں سات آٹھ ہزا ر سے لے کر چودہ پندرہ ہزار تک روٹی تیار ہو سکے یہ بڑا چھوٹا یونٹ ہے لیکن ایسی مشین ضرور خرید لینی چاہیے اس پر جتنا بھی خرچ آئے کیا جائے اس میں کچھ دقتیں ضرور ہوں گی امپورٹ لائسنس لینا پڑے گا لیکن اگر ہم ابھی کام شروع کر دیں تو جلسہ تک انشاء اللہ ایسی مشین خریدی جاسکتی ہے۔پھر جب اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے اور تجربہ ہمیں حاصل ہو جائے تو ایک وقت ایسا بھی آسکتا ہے کہ ہم ایک کی بجائے تین چار پانچ چھ یا سات مشینیں حسب ضرورت لگالیں اور ہمیں نانبائیوں کی احتیاج باقی نہ رہے۔بہر حال اس سال ایک چھوٹا یونٹ اس قسم کی مشین کا لگ جانا چاہیے۔پانچویں بات یہ ہے کہ نانبائیوں کے ٹھیکہ کا جو موجودہ انتظام ہے اس سے بہتر انتظام کا منصوبہ بنا کر افسر صاحب جلسہ سالانہ ایک ماہ کے اندر اندر میرے سامنے رکھیں اور جس حد تک ممکن ہو سکے اس قسم کی ایمر جنسی کی روک تھام پہلے سے کر دی جائے۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے یہ بھی ایک فضل تھا جو جلسہ کے ایام میں ہم پر نازل ہوا کہ اللہ تعالیٰ