خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 299 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 299

خطبات ناصر جلد دوم ۲۹۹ خطبہ جمعہ ۱۳ رستمبر ۱۹۶۸ء نہیں کر سکتے پس تو ہماری مدد کو آ اور جس طرح دکھوں کے وقت تو ہمارے دلوں کو تسلی دیتا اور ہماری روحوں کو تسکین بخشتا ہے اسی طرح تو شیطان کی وسوسہ اندازی کے وقت ہمارے دلوں کے گرد اپنی رضا اور اپنے نور کا ہالہ کھینچ دے تا شیطان جو ظلمتوں سے پیار کرتا ہے وہ اس نور کے ہالہ کے اندر داخل نہ ہو سکے اور ہم اس کے وسوسوں سے محفوظ رہیں۔غرض دعا ہی ہے جس کے ذریعہ ہم نے ان امتحانوں میں کامیاب ہونا ہے پس کبھی بھی دنیا میں فساد نہ پیدا کرو، کبھی بھی ایڈا کے مقابلہ میں ایذا اور گالی کے مقابلہ میں گالی نہ دو، خدا پر بھروسہ رکھو وہی ایک ہستی ہے جس پر ہم تو گل کر سکتے ہیں وہ اپنے وعدوں کا سچا اور اپنے ان بندوں سے جو اخلاص اور فدائیت کے ساتھ اس کے قدموں پر گر جاتے ہیں وفا اور پیار کا سلوک کرنے والا ہے اس نے ہمیں کہا ہے کہ وَدَعْ اذْهُم وَ تَوَكَّلُ عَلَى اللَّهِ (الاحزاب: ۴۹) ان کی ایذا دہی کو نظر انداز کر دو اور اپنے رب پر ہی تو کل رکھو کیونکہ وہی حقیقی کارساز ہے کہ جب وہ مددکو آئے تو کسی اور مدد کی احتیاج انسان کو باقی نہیں رہتی۔خدا کرے کہ ہم اپنی زندگی کے ہر ابتلا اور امتحان میں اس رنگ میں کامیاب ہوں کہ اس کی رضا کو زیادہ سے زیادہ حاصل کرسکیں اور خدا کرے کہ ہمارے ملک میں بھی اور دنیا میں بھی فساد اور بدامنی کے حالات امن اور صلح اور آشتی کے حالات میں بدل جائیں اور انسان امن کی فضا میں اسلام کی سلامتی سے حصہ لینے والا اور خدا کی سلامتی کے اندر داخل ہونے والا ہو جائے۔( آمین ) روزنامه الفضل ربوه ۲۱ رستمبر ۱۹۶۸ ء صفحه ۲ تا ۶ ) 谢谢谢