خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 19 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 19

خطبات ناصر جلد دوم ۱۹ خطبه جمعه ۲۶ / جنوری ۱۹۶۸ء چاہیے (انشاء اللہ ) کہ کام خیر و خوبی کے ساتھ انجام پا گیا ہے اور ہمارے تین سو نوجوان اس قابل ہیں کہ تنور میں روٹی لگا سکیں۔اس سکیم کی تفصیل میں میں اس وقت نہیں جاؤں گا۔افسر صاحب جلسہ سالانہ کا کام ہے کہ پوری تفصیل کے ساتھ مجھ سے مشورہ کرنے کے بعد اس سکیم کو بنائیں اور جماعتوں کا فرض ہے کہ وہ اسے کامیاب کریں۔دوسری چیز یہ ہے کہ اہالیانِ ربوہ کم و بیش دو اڑھائی ہزار مکانوں میں رہتے ہیں۔ان دواڑھائی ہزار مکانوں میں سے مجھے چھ سو ایسے رضا کار مکان چاہئیں کہ جب ضرورت پیش آئے تو وہ ہمیں ایک سوروٹی توے کی پکا کر دیں۔توے پر سو روٹی پکانا کوئی بڑا کام نہیں۔میں نے اس روز ( یعنی ۱۰ جنوری کو اپنے باورچی کو کہا کہ جتنی روٹیاں زائد پکا سکو پکا دو اور میرا اندازہ ہے کہ اس نے کم و بیش ایک سور وٹیاں صبح کے ناشتہ پر زائد پکا دی تھیں اور وہ ہم نے لنگر نمبر میں بھجوادی تھیں اور سو سے زائد اس نے دو پہر کے کھانے پر پکا دی تھیں جو ہم نے لنگر نمبر 1 میں بھجوائیں میں نے تو دو پہر کے وقت روٹی نہیں کھائی تھی کیونکہ میں اپنا راشن صبح ناشتہ پر پورا کر چکا تھا یعنی ایک چپاتی میں نے کھالی تھی۔پس سو روٹی توے پر پکانا کوئی مشکل بات نہیں۔اگر چھ سو گھر رضا کارانہ خدمت پیش کر دیں تو ضرورت کے وقت ساٹھ ہزار روٹی چند گھنٹوں کے اند رمل سکتی ہے۔تیسری چیز یہ ہے کہ فروری کا مہینہ ختم نہ ہو کہ ایک سولوہ (لوہ ایک بڑے توے کو کہتے ہیں ) افسر صاحب جلسہ سالانہ خرید کر مجھے رپورٹ کریں اور اگلے جلسہ پر ایک سو چو لہے بھی ضرورت پر کام آنے کے لئے پہلے سے تیار ہوں اور وہاں لکڑیاں بھی موجود ہوں تا ضرورت پڑے تو ان کوہوں سے کام لیا جا سکے۔اس سال سینکڑوں احمدی بہنوں کی طرف سے مجھے یہ اطلاع ملی کہ آپ لوہ کا انتظام کریں نانبائیوں کی ضرورت نہیں مجھے ذاتی تجربہ تو نہیں ویسے کہتے ہیں اور بتانے والوں نے بتایا ہے کہ ایک لوہ پر اگر تین عورتیں روٹیاں پکا رہی ہوں تو وہ ایک بوری آٹا پکا دیتی ہیں (واللہ اعلم ) اگر یہ صحیح ہو تو ہمیں سارے جلسہ کے لئے زیادہ سے زیادہ ایک سو پچاسی لوہ کی ضرورت ہے کیونکہ اس سے زیادہ تنور ہمارے نہیں جلتے۔لیکن اس سال میں ایک سولوہ کا انتظام کرانا چاہتا ہوں اور اس