خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 269 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 269

خطبات ناصر جلد دوم ۲۶۹ خطبه جمعه ۳۰ اگست ۱۹۶۸ء ہوتا ، کوئی احسان کا پہلو جو خدا کو محبوب ہو وہ ان کے اعمال میں نہیں ہوتا لیکن شیطان ان کو ورغلاتا ہے اور ایسے بد اعمال کو ان لوگوں کے لئے خوبصورت کر کے دکھلا دیتا ہے۔یہ دو مصیبتیں ہیں جو انسان کے ساتھ لگی ہوئی ہیں ایک غیر اللہ سے خوف اور دوسرے غیر اللہ سے حقیقی مسرتوں کے حصول کی تمنا۔خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں بڑی وضاحت سے ہمیں یہ بتایا ہے کہ اگر کسی کا خوف انسان کے دل میں پیدا ہونا چاہیے تو وہ صرف اللہ کی ذات ہے یعنی یہ خوف کہ اگر اللہ ناراض ہو گیا تو ہم ہلاک ہوئے اور اگر کسی پر بھروسہ انسان کو رکھنا چاہیے تو وہ خدا کی ذات ہے وہی ذات کہ جس کے غضب کا ایک لمحہ انسان کو تباہ کر کے رکھ دیتا ہے، وہی جس کے حُسن کا ایک جلوہ دنیا و ما فیھا سے انسان کو بے نیاز کر دیتا ہے اس لئے شیطان کے ان ہتھکنڈوں میں نہ آنا۔اللہ فرماتا ہے کہ شیطان کی عبادت نہ کرنا جتنا چاہے وہ تمہیں ڈرالے، جس قدر چاہے وہ تمہیں اُمید میں دلا دے تم ثبات قدم کے ساتھ اپنے اس عہد پر قائم رہنا اور علی وجہ البصیرت اس حقیقت کو پہچاننا کہ جب اللہ تعالیٰ رحمت کے دروازے کسی کے لئے کھولنا چاہے تو شیطان اور اس کی ساری طاقتیں انسان کو اس رحمت سے محروم نہیں کرسکتیں۔اور اس حقیقت پر بھی قائم رہنا کہ اگر اللہ تعالیٰ سوء کا ، دکھ کا ، عذاب کا، بے چینی کا، پریشانیوں کا کسی بندے کے متعلق فیصلہ کرے تو شیطان جتنی مرضی ہے وعدے کرتا چلا جائے ان وعدوں سے کوئی اچھا نتیجہ نہیں نکل سکتا کیونکہ حکم وہی جاری وساری ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ہم نے ایسا سامان تو کیا ہے کہ اس دنیا میں خدا کو چھوڑ کر بھی کچھ دنیوی لذات حاصل ہو جائیں لیکن اُس دنیا میں پھر ہر قسم کی لذت اور خوش حالی اور مسرت سے انسان محروم ہوجاتا ہے اور یہ عارضی دنیا اور اس کی عارضی لذات کو ئی قیمت ہی نہیں رکھتیں اس لئے شمن قلیل کی خاطر ابدی مسرتوں کو قربان نہ کر دینا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللهِ وَ أَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا أُولَبِكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ وہ لوگ جو اپنے اس عہد کو توڑ دیتے ہیں جو انہوں نے اللہ سے باندھا اور اس کے بدلہ میں