خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 226
خطبات ناصر جلد دوم ۲۲۶ خطبہ جمعہ ۲۶ / جولائی ۱۹۶۸ء جلوے دکھائے اور آپ کو بھی اور مجھے بھی اپنی حفظ اور امان میں رکھے اور صحت دے۔دوسری بات فضل عمر فاؤنڈیشن کے نام سے جو تحریک آج سے قریباً دو سال پہلے جاری کی گئی تھی اس کے متعلق میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ دو سال گزر چکے ہیں اور ایک سال باقی رہتا ہے ہم نے باہمی مشورہ کے بعد فیصلہ کیا تھا کہ جو دوست اس تحریک میں حصہ لینا چاہیں اگر وہ چاہیں تو اپنے وعدے کو تین حصوں میں تقسیم کر کے تین سالوں میں ادا کر دیں (یعنی ایک تہائی ہر سال میں ) اس وقت جو دو سال کی آمد ہے وہ دو تہائی سے کم ہے میرا خیال ہے کہ پاکستان کی جماعتوں نے ( یا ان میں سے اکثر نے ) اپنے وعدہ کے مطابق دو تہائی یا بعض نے اس سے بھی زیادہ ادا کر دیا ہے اور اپنے وعدوں کو پورا کر لیا ہے لیکن جو جماعتیں بیرون پاکستان کی ہیں ان کے ذمہ دار آدمیوں نے جن میں ہمارے مبلغ اور وہاں کے عہد یدار شامل ہیں ذگر ، کی نصیحت پر عمل نہیں کیا کیونکہ جو خطوط وہاں سے آتے ہیں اور جو حالات ہمیں معلوم ہیں وہ لوگ کسی طرح بھی پاکستان کی جماعتوں سے اپنے اخلاص میں کم نہیں بلکہ وہ ہمارے شانہ بہ شانہ قربانیوں کے میدان میں آگے بڑھ رہے ہیں اس تحریک میں اگر وہ پیچھے رہ گئے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کو یاد دہانی نہیں کرائی گئی ذمہ دار عہدیدار یا مبلغ جو بیرونی ملک میں کام کر رہے ہیں ان کا فرض ہے کہ وہ دوستوں کو اس طرف متوجہ کریں پاکستان میں جن دوستوں نے فضل عمر فاؤنڈیشن کے وعدے کئے ہوئے ہیں ان کو بھی میں کہنا چاہتا ہوں کہ تیسرا سال شروع ہو گیا ہے اور اس تحریک میں چوتھا سال نہیں ہو گا یعنی جب تین سال ختم ہو جائیں گے تو اس کے بھی کھاتے بند کر دئے جائیں گے یہ اعلان میں آج موجودہ حالات کے مطابق بڑی سوچ کے بعد کر رہا ہوں میں چوتھے سال کی اجازت نہیں دینا چاہتا۔تیسرے سال میں سارے وعدوں کی ادائیگی ہو جانی چاہیے استثنائی صورت تو ہوتی ہے بعض کے حالات اچانک خراب ہو جاتے ہیں لیکن دل میں شوق اور ولولہ اور جذ بہ اسی طرح قائم ہوتا ہے ایسا آدمی اگر آکر ہمیں کہے کہ اس سال ( تیسرے سال ) میرے حالات ایسے ہو گئے ہیں مجھے کچھ اور مہلت دی جائے تو ایسے دوستوں کو تو مہلت دینا مناسب ہے اور انکا حق ہے کہ ان