خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 205 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 205

خطبات ناصر جلد دوم ۲۰۵ خطبہ جمعہ ۱۲ جولائی ۱۹۶۸ء شیطنت کو کبھی پیدا نہ ہونے دینا کہ میں تیری راہ کو جانتے بوجھتے انشراح صدر کے ساتھ چھوڑنے لگ جاؤں اور نہ ایسے حالات پیدا کرنا کہ میں تیری راہ کو گم کر دوں اور بھٹک جاؤں اور شیطان کی راہوں کو اختیار کرلوں۔غرض جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے متعدد جگہ تحریر فرمایا ہے سورۃ فاتحہ ایک عظیم دعا ہے اس وقت میں صرف اس چھوٹے سے ٹکڑے کا مضمون بیان کر رہا ہوں اور اس سورۃ کا یہ ٹکڑا بھی عظیم دعا ہے اور اس میں بتایا گیا ہے کہ میرے غضب سے بچنے کے لئے ہر قسم کی تدبیر اختیا ر کرنے کے بعد میرے حضور آؤ اور دعائیں کرو اور ضلالت کی راہوں کو اختیار کرنے سے بچنے کے لئے ہر قسم کی تدبیر اختیار کرو اور میرے پاس آؤ اور دعا کرو۔اگر خلوص نیت سے میرے حضور دعا کرو گے تو ضال ہونے سے بھی تجھے اے انسان بچایا جائے گا مغضوب ہونے سے بھی تجھے بچایا جائے گا اور صراط مستقیم تجھے دکھائی جائے گی اس راہ پر چلنے کی تجھے تو فیق عطا کی جائے گی میرے قُرب کو تو حاصل کرلے گا میری رضا کی جنت میں تو داخل ہو جائے گا اور اس گروہ میں شامل ہو جائے گا جو مُنْعَمْ عَلَيْهِمْ کا گروہ ہے جس کا ذکر متعدد آیات قرآنیہ میں پایا جاتا ہے۔خدا کرے کہ ہمیں محض اس کے حضور سے یہ توفیق ملتی رہے کہ ہم سورۃ فاتحہ کی دعا کو خلوص نیت کے ساتھ اور پوری سمجھ کے ساتھ پڑھتے رہیں اور خدا کرے کہ ہماری یہ عاجزانہ دعا سب سے پہلے اس کے حضور قبول ہو کیونکہ یہ بڑی جامع دعا ہے اور خدا کرے کہ ہم مُنْعَمْ عَلَيْهِمْ گروہ میں شامل کئے جائیں اور جس دن سب انسانوں نے اس کے حضور اکٹھا ہونا ہے اس دن اس گروہ میں شامل نہ ہوں جو اس کی نگاہ میں یا تو مغضُوب ہے یا ضَال ہے۔آمین۔روزنامه الفضل ربوه ۹ را گست ۱۹۶۸ صفحه ۲ تا ۴)