خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 203 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 203

خطبات ناصر جلد دوم ۲۰۳ خطبہ جمعہ ۱۲ جولائی ۱۹۶۸ء معمولی چیز ہے کہ ہم اس کا نام ہی نہیں لیں گے ) دوسری زندگی میں بھی وہ کام آ جائے گا آپ دفتر میں جاتے ہیں سو روپیہ آپ کو تنخواہ ملتی ہے اب کوئی احمق ہی کہہ سکتا ہے کہ یہ چاندی کے سکے یا کاغذ کے نوٹ صرف اس دنیا سے تعلق رکھتے ہیں قیصر کی چیز ہے اس کا ایک حصہ اس کو دے دینا چاہیے لیکن چونکہ یہ خدا کی چیز نہیں اسے نہیں دینا چاہیے اگر کوئی ایسا سمجھتا ہے تو وہ تباہ ہو جائے گا اُسے یہ کہنا چاہیے کہ ہر چیز چونکہ خدا کی ہے اس لئے جس قدر چاہے وہ لے لے پھر جو بچ جائے گاوہ میں استعمال کرلوں گا۔ایک مومن کی یہی نیت ہوتی ہے اس کی یہ نیت نہیں ہوتی کہ جو مجھ سے بچ جائے گا وہ میں خدا کو دے دوں گا بلکہ اس کی نیت یہ ہوتی ہے کہ جو اللہ سے بچ جائے گا اس معنی میں کہ وہ کہے کہ میں نے اتنا لے لیا باقی تم استعمال کر لو تو پھر وہ میں استعمال کرلوں گا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ میں سے بعض کے ساتھ یہی سلوک کیا آپ نے فرمایا نہیں اتنا مال نہیں چاہیے واپس لے جاؤ اور استعمال کرو اس نیک نیتی کے ساتھ جتنا دینا چاہا پیش کر دیا اور ہمیں یقین ہے کہ اس نے خدا سے اسی کے مطابق ثواب حاصل کر لیا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے حالات کو دیکھتے ہوئے اور اسلام کی اس وقت کی ضرورتوں کو سامنے رکھتے ہوئے کہا سارے مال کی ضرورت نہیں واپس لے جاؤ پھر یہ بتانے کے لئے کہ جب ایک مومن خدا کے حضور اپنا سارا مال پیش کرتا ہے تو اس کے دل میں یہ بد نیتی نہیں ہوتی کہ سارا مال قبول نہیں کیا جائے گا اس لئے سارا پیش کرنے میں کوئی حرج نہیں۔حضرت ابوبکر نے جب اپنا سارا مال پیش کیا تو وہ سارا قبول کر لیا گیا اور بتایا گیا کہ ہر مومن کے دل کی یہی کیفیت ہے لیکن کچھ مومن وہ ہوتے ہیں جو جواں ہمت ہوتے ہیں اور جو انتہائی بوجھ کو برداشت کر سکتے ہیں (چنانچہ آپ نے ان میں سے ایک کا سارا مال لے لیا اور مثال کو قائم کر دیا ) اور کچھ وہ ہوتے ہیں کہ ان کی روح تو انتہائی قربانیاں دینے کے لئے تیار ہوتی ہے لیکن ان کا ماحول اور ان کا جسم اس کے لئے تیار نہیں ہوتا ان کو فتنہ اور امتحان سے بچانے کے لئے ان کے مال کا ایک حصہ قبول کر لیا جاتا ہے اور ایک حصہ واپس کر دیا جاتا ہے۔پس مومن کی مادی کوشش مادی دنیا کی حدود سے ورے ختم نہیں ہو جاتی اور اس کے متعلق نہیں کہا جاسکتا کہ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيوةِ الدُّنْيَا کیونکہ ہر روپیہ جو وہ خرچ کرتے ہیں زندگی کا