خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 197 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 197

خطبات ناصر جلد دوم ۱۹۷ خطبہ جمعہ ٫۵جولائی ۱۹۶۸ء باہر نکال دے گا پس اس قسم کے منافق بھی مدینہ میں موجود تھے ہمارے ہاں بھی ہیں جماعت میں بھی ہیں اور ر بوہ میں بھی ہیں اور ان سے بچنے کے لئے ہی خدا کی طرف سے آپ کو یہ ہدایت ہوئی ہے کہ كُونُوا مَعَ الصّدِقِيْنَ اگر الہی سلسلہ کے سارے لوگ ہی صادقین کے گروہ میں ہوتے تو اس تنبیہ اور ذکر کی ضرورت نہیں تھی آپ یہاں آتے اور جس سے بھی آپ ملتے وہ صادقین میں ہی شامل ہوتا اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کا تعلق صدق و وفا کا ہوتا لیکن چونکہ بعض روحانی مصالح کے پیش نظر کفر کے ساتھ نفاق کو بھی انسانی ترقیات کے لئے اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں ضروری سمجھا گیا ہے اس لئے الہی سلسلوں میں منافق پیدا ہوتے رہے ہیں اور پیدا ہوتے رہیں گے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں جب پیدا ہوئے تو اور کون ہے جو یہ دعویٰ کر سکے کہ میں اتنا بڑا ہوں کہ میری زندگی میں منافق نہیں ہو سکتے کیونکہ جس حد تک بھی کوئی بڑا ہے وہ اس معنی میں بڑا ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت اور عشق اور فدائیت کا تعلق رکھتا ہے اس لئے اگر اس کے آقا کی زندگی میں منافق تھے تو اس کی زندگی میں بھی اگر اس پر کوئی ذمہ داری کا کام ڈالا گیا ہے منافق ہیں اور رہیں گے اس لئے جب تک آپ ( جو باہر سے یہاں آئے ہیں ) یہاں رہیں کُونُوا مَعَ الصدقین کو بھی یاد رکھیں اور منافق کی منافقانہ چالوں سے بچتے رہیں آپ کو بیدار رکھنے کے لئے منافق کو پیدا کیا جاتا ہے وہ خود تو جہنم میں جاتا ہے لیکن آپ کے لئے جنت کی راہوں کی نشان دہی کرتا چلا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو منافق کے شر سے محفوظ رکھے اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان عاجزانہ دعاؤں کے کرنے کی توفیق عطا کرے جو اس کے حضور قبول ہو جائیں اور جن کے نتیجہ میں ہماری تدبیر کامیاب ہو اور جس مقصد کے لئے ہم یہاں جمع ہوئے ہیں اس مقصد میں ہم بامراد ہو کر اپنے گھروں کو واپس لوٹیں۔( آمین ) روزنامه الفضل ربوه ۲۰ / جولائی ۱۹۶۸ء صفحه ۲ تا ۳)