خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 191
خطبات ناصر جلد دوم ۱۹۱ خطبہ جمعہ ۲۱؍جون ۱۹۶۸ء کا نشان۔پہلے ہم وہ بھی ایک چھوٹے رنگ میں بعض دفعہ ایک ہلکی سی جھلک ہوتی ہے پھر وہ پوری شان سے ظاہر ہوتی ہے بعض امراء ورؤساء یا اپنے اپنے علاقہ کے نیم مالک اور حاکم وہ احمدی ہوئے اور انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کپڑوں کے طفیل اللہ کی برکتیں حاصل کرنے کی کوشش کی۔اس وقت بھی ہم خوش ہوئے کہ اللہ تعالیٰ نے اگر چہ دھندلا اظہار ہے اس نشان کا۔بہر حال نشان کا اظہار ہو گیا اس کی قبولیت ہم نے دیکھ لی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعائیں جو تھیں، وہ ایک رنگ میں اگر چہ وہ ایک دھندلا رنگ ہے لیکن وہ پوری ہو ئیں اور اب ہم نے پھر خدا کی یہ شان بھی دیکھی کہ گیمبیا کے گورنر جنرل احمدی ہوئے اور انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کپڑوں سے برکت حاصل کی۔دینی بھی اور دنیوی بھی۔اس کی تفصیل میں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں انہوں نے اس کے لئے چالیس دن تک دعائیں کیں اپنے آپ کو اس کے لئے نوافل پڑھ پڑھ کر اور عاجزانہ دعاؤں کے ساتھ تیار کیا ادھر ہم ڈاکخانہ کے بعض قواعد کی وجہ سے کسی قدر تاخیر کے ساتھ انہیں یہ تبرک بھجوا سکے لیکن اس میں بھی اللہ تعالیٰ نے اپنی ایک شان دکھائی تھی جس دن ان کے ہاتھ میں حضرت مسیح موعود علیہ والسلام کا یہ تبرک پہنچا اس سے اگلے دن غالباً ان کا جو عہدہ تھا گورنر جنرل کا وہ کنفرم ہوا۔اس سے پہلے اس دن تک وہ آفیشییٹ کر رہے تھے تو ایک دنیوی برکت ان کو بالکل قریب کے زمانہ میں اس تبرک کے حصول کے بعد حاصل ہو گئی اور دل کی برکتیں جن کی میں نے مثال دی ہے وہ الگ ہیں یہ خیال دل میں پیدا ہونا کہ میرے ساتھ احمدی امام ہونا چاہیے تاکہ کہیں بدمزگی نہ پیدا ہو بڑے اخلاص کا اظہار کر رہا ہے معمولی چیز نہیں ہے یہ بھی ، ایک گورنر جنرل ہے وہ دنیا میں ، کاموں میں تو دنیا کے پھنسے ہوئے ہیں نا بچارے، پھر بھی دین کے لئے وقت نکالتے ہیں تھنکنگ کرتے ہیں، سوچتے ہیں اپنے آپ کو غلط مقامات سے بچانے کی کوشش کرتے ہیں جیسا کہ انہوں نے کی اور اللہ تعالیٰ نے ان فضل کیا۔تو اس آیت میں اللہ تعالیٰ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ جو صحیح راہیں دنیوی مقاصد کے حصول یا روحانی مقاصد کے حصول کے لئے اللہ تعالیٰ نے متعین کی ہیں ان کی نشاندہی کی ہے اگر تم ان