خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 5
خطبات ناصر جلد دوم خطبه جمعه ٫۵جنوری ۱۹۶۸ء سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھانا چاہیے۔انفرادی طور پر بھی ہر وقت دعا کرتے رہنا چاہیے خاص توجہ اور انہماک کے ساتھ زیادہ تر ان ایام کے سب اوقات دعاؤں سے معمور ہونے چاہئیں۔کوئی لمحہ ایسا بھی نہیں ہونا چاہیے ان ایام میں جو دعا سے خالی اور اللہ تعالیٰ کی برکت سے خالی ہو۔(۴) چوتھی بات جماعت کو مخاطب کر کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ فرمائی کہ اس جلسہ میں شمولیت کے لئے کچھ نہ کچھ تو دنیوی حرج کرنا پڑتے ہیں یہ تو نہیں ہوسکتا کہ کسی قسم کا کوئی حرج بھی آپ نہ کریں اور پھر اس میں شامل ہو جائیں۔باہر سے آنے والے پیسہ خرچ کرتے ہیں اپنی رخصتیں خرچ کرتے ہیں اپنی تجارتوں کو چھوڑ کے اس جلسہ کی برکات میں حصہ لینے کے لئے اس میں جمع ہوتے ہیں جو یہاں کے رہنے والے ہیں وہ جلسہ کے لئے اپنے چوبیس گھنٹے وقف کرتے ہیں (قریباً سارے) لیکن جو نہیں کرتے انہیں اس خیال سے ترساں رہنا چاہیے کہ کہیں اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کو وہ مول نہ لینے والے ہوں۔پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہاں یہ فرمایا کہ کچھ نہ کچھ تمہیں حرج تو کرنا پڑے گا کچھ تکلیف اُٹھانی پڑے گئی۔کچھ مال خرچ کرنا پڑے گا کچھ عادتوں کو چھوڑنا پڑے گا۔لیکن خدا کے لئے اور ربانی باتوں کو سننے کے لئے تمہیں ادنی ادنیٰ حرجوں کی پروا نہیں کرنی چاہیے بڑے مخلص امیر اور بڑے مخلص غریب اس جلسہ میں شامل ہوتے ہیں۔مجھے خود ذاتی طور پر ایسے دوستوں کا علم ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے دنیوی اموال بھی کثرت سے دیئے ہیں لیکن جلسہ کے ایام میں ان کے سارے خاندان کو ایک غسل خانہ مل جائے جس میں پر الی بچھی ہو تو ان کے دل خدا کی حمد سے بھر جاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی رہائش کا سامان پیدا کر دیا ہے اور یہ ایسی مثالیں ہیں کہ غیر تو ان کو سمجھ ہی نہیں سکتے۔وہ خیال کریں گے کہ شاید یونہی باتیں بنارہے ہیں لیکن جلسہ پر آئیں اور دیکھیں تو ان کو پتہ لگے کہ کس خالص نیت اور کسی پاک دل کے ساتھ یہ لوگ اس جلسہ میں شرکت کرتے ہیں۔تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس فرمان کو سامنے رکھتے ہوئے اگر باہر کی جماعتوں تک