خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 156
خطبات ناصر جلد دوم خطبہ جمعہ ۳۱ رمئی ۱۹۶۸ء ہاتھ سے اپنی نفسانی خواہشات کی گردن پر چھری پھیر کر انہیں اپنے رب کے قدموں میں نہ لا ڈالیں تو ہماری عبادت کیسے قبول ہوگی۔اللہ کہے گا کہ آدھے تم میری طرف جھکے اور آدھے تم اپنے نفسوں کی پرستش میں مصروف رہے اس قسم کی عبادتوں کو میں پسند نہیں کرتا حقیقی عبادت جیسا کہ خدا چاہتا ہے کہ ہم اس کی کریں اس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا یہ ارشاد ہے جو میں اس وقت پڑھ دیتا ہوں اور جس پر میں آج اپنے مختصر سے خطبہ کو ختم کروں گا۔آپ فرماتے ہیں :۔انسان خدا کی پرستش کا دعوی کرتا ہے مگر کیا پرستش صرف بہت سے سجدوں اور رکوع اور قیام سے ہو سکتی ہے یا بہت مرتبہ تسبیح کے دانے پھیر نے والے پرستار الہی کہلا سکتے ہیں بلکہ پرستش اس سے ہو سکتی ہے جس کو خدا کی محبت اس درجہ پر اپنی طرف کھینچے کہ اس کا اپنا وجو د درمیان سے اٹھ جائے اول خدا کی ہستی پر پورا یقین ہو۔اس طرف ہمیں خاص توجہ دینی چاہیے نام تو ہم اللہ کا لیتے رہتے ہیں اس کے نشان بھی بڑی کثرت سے ہماری جماعت دیکھتی ہے مگر وہ یقین کامل جو اس کی کامل ہستی اور اس کی قدرت اور اس کی دوسری صفاتِ حسنہ پر ہونا چاہیے بعض دفعہ بعض احمدیوں کے دل میں بھی ان کے متعلق کمزوری پیدا ہو جاتی ہے اس متاع حسین اور بڑی قیمتی متاع کی حفاظت ہر وقت ہر احمدی کو کرتے رہنا چاہیے۔آپ فرماتے ہیں :۔اول خدا کی ہستی پر پورا یقین ہو اور پھر خدا کے حسن و احسان پر پوری اطلاع ہو اور پھر اس سے محبت کا تعلق ایسا ہو کہ سوزشِ محبت ہر وقت سینہ میں موجود ہو اور یہ حالت ہر ایک دم چہرہ پر ظاہر ہو اور خدا کی عظمت دل میں ایسی ہو کہ تمام دنیا اس کی ہستی کے آگے مُردہ متصور ہو اور ہر ایک خوف اسی کی ذات سے وابستہ ہو اور اسی کی درد میں لذت ہو اور اسی کی خلوت میں راحت ہو اور اس کے بغیر دل کو کسی کے ساتھ قرار نہ ہو۔اگر ایسی حالت ہو جائے تو اس کا نام پرستش ہے مگر یہ حالت بجز خدا تعالیٰ کی خاص مدد کے کیونکر پیدا ہو۔اسی لئے خدا تعالیٰ نے یہ دعا سکھلائی اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ یعنی ہم تیری پرستش تو کرتے