خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 155
خطبات ناصر جلد دوم کماحقہ پورا کرسکیں۔۱۵۵ خطبہ جمعہ ۳۱ رمئی ۱۹۶۸ء اسی سورۃ میں انعام کی طرف بھی اصولاً اور بڑے حسین پیرایہ میں متوجہ کیا ہے آج حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ اپنے اللہ اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچاننے کی وجہ سے ہمارے دل میں جو سب سے بڑی تڑپ پائی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ بنی نوع انسان اپنے رب کو پہچانیں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احسان کو مانتے ہوئے آپ پر درود بھیجنے لگیں اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے وارث ہوں اگر اور جب ہماری عبادت قبول ہو جائے اور خدا ہمیں کہے کہ میں جیسا کہ تیری خواہش تھی تمہاری مدد کو آیا اور میں نے تمہیں تو فیق عطا کی کہ تم صحیح معنی میں میرے عبادت گزار بندے بن جاؤ اب میں تمہیں انعام دینا چاہتا ہوں بتاؤ کیا لینا چاہتے ہو؟ تو ہم میں سے ہر احمدی کی یہ ندا ہو کہ اے میرے رب ! تو نے ہم پر بڑا احسان کیا کہ ہمیں عبادت کی توفیق عطا کی ، تو نے ہم پر بڑا احسان کیا کہ تو نے ہماری ان عبادتوں کو قبول کیا اور تو ہم پر بڑا احسان کر رہا ہے کہ ان عبادتوں کو قبول کرنے کے بعد ہمیں اپنے فضلوں اور انعاموں سے نوازنا چاہتا ہے۔ہماری سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہ اس دنیا میں بسنے والے تمام ہمارے انسان بھائی تمہیں چاننے لگیں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو تعلیم دنیا کی بہتری کے لئے لائے تھے وہ اپنی گردنیں اس تعلیم کے جوئے کے نیچے رکھ دیں اور ابدی جنتوں کے ہماری طرح وہ بھی وارث ہوں۔پرستش کا دعوی کر نا اور یہ کہنا کہ ہم عبادت کر رہے ہیں آسان ہے لیکن کرنا مشکل ہے کیونکہ عبادت صرف نمازیں پڑھنے کا نام نہیں قیام رکوع اور سجود کو ظاہری شکل میں بجالانے کا نام ہی عبادت نہیں ہے خالی زکوۃ دے دینا بھی عبادت نہیں محض روزے رکھنا بھی عبادت نہیں بلکہ اس کے پیچھے ایک روح ہے جس کی ضرورت ہے اگر ہماری نماز ، اگر ہمارے روزے، اگر ہماری زکوۃ اور اگر ہماری دوسری عبادات زندہ ہیں تو وہ قبول ہوں گی اگر مُردہ ہیں تو جو مردوں سے سلوک کیا جاتا ہے وہی ان سے کیا جائے گا پرستش کرنے کے لئے جس چیز کی ضرورت ہے پس روح کی ضرورت ہے جس کے لئے ہم اپنے رب سے دعائیں مانگتے ہیں وہ یہ ہے کہ سب سے پہلے ہم غیر اللہ کے وجود کو مٹائیں اور غیر اللہ میں پہلا وجود ہمارے اپنے نفس کا ہوتا ہے اگر ہم اپنے ہی پہنچا۔