خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 143
خطبات ناصر جلد دوم ۱۴۳ خطبہ جمعہ ۱۰ رمئی ۱۹۶۸ء شفاعت بھی قبول ہوگی تو یہ دن بڑا سخت ہے اور یہ حشر کا دن ایسا ہے کہ کوئی تجارت کوئی دوستی ،کوئی شفاعت کا م نہیں آئے گی اس کے لئے ہم نے خود اپنے لئے تیاری کرنی ہے اگر ہم اس دنیا میں اپنی محبت کے ذریعہ اپنی بے نفسی کے نتیجہ میں اور اپنی قربانیوں کے ساتھ اپنے رب کو راضی کر لیتے ہیں اور وہ یہ فیصلہ کر دیتا ہے کہ یہ مال میں نے تمہارا قبول کیا اور اس کے بدلے میں جو میرے وعدے ہیں تمہارے حق میں پورے ہوں گے جب وہ اس دنیا میں یہ اعلان کر دیتا ہے کہ میں تمہارا دوست اور ولی ہوں جب وہ اس دنیا میں کہہ دیتا ہے کہ گھبرانا نہیں تم میری شفاعت کے سایہ اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کے سایہ کے نیچے ہو، تب یہ تین چیزیں تمہارے کام آسکتی ہیں اور تب یہ تین چیزیں تمہارے کام آئیں گی۔اس کے بغیر ، اس کے علاوہ کوئی تجارت ، کوئی دوستی ، کوئی شفاعت تمہارے کام نہیں آسکتی اس لئے اس دن سے پہلے اس دنیا میں اپنے لئے ان تین چیزوں کا سامان پیدا کرنے کی کوشش کرو۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی تو فیق عطا کرے وہ ہمارے سودوں کو قبول بھی کرے وہ ہمار اولی بھی بن جائے وہ ہمارا شفیع بھی ہو جائے اور اپنی مغفرت اور اپنی رحمت کی چادر میں ہمیں لے لے اور ہمیں وہ ملے جس کا اس نے اپنے پاک بندوں سے وعدہ کیا ہے اور ہمارے گناہ ہمارے لئے جہنم خریدنے والے نہ ہوں بلکہ اس طرح ڈھانک دئے جائیں کہ اس کے فرشتوں کو ہاں خود ہمیں بھی نظر نہ آئیں۔روزنامه الفضل ربوه ۳۱ رمئی ۱۹۶۸ء صفحه ۲ تا ۵) 谢谢谢