خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 3 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 3

خطبات ناصر جلد دوم خطبه جمعه ۵/جنوری ۱۹۶۸ء یہ دواقتباسات جو اس وقت میں نے آپ دوستوں کو سنائے ہیں۔ان میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مندرجہ ذیل باتوں کا ذکر کیا ہے۔(۱) ایک یہ کہ یہ جلسہ معمولی انسانی جلسوں کی طرح خیال نہ کریں جس طرح میلے ہوتے ہیں دوسرے اجتماع ہوتے ہیں۔اس قسم کا یہ جلسہ نہیں ہے اس لئے جو غرض اس جلسہ کے انعقاد کی ہے اس سے کبھی غافل نہ رہیں اور اس کے حصول کے لئے حتی الوسع انتہائی کوشش کرتے رہیں۔پس یہ معمولی جلسہ نہیں ہے۔یہ تو ایک روحانی اجتماع ہے اور اس روحانی اجتماع میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے جو روحانی فضا پیدا ہوتی ہے۔ایک تو اس میں کسی قسم کا انتشار پیدا نہیں ہونا چاہیے اس سے بچتے رہنا چاہیے اور دوسرے اس روحانی فضا سے جس قدر برکات بھی حاصل کی جاسکتی ہیں انہیں حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔(۲) دوسری بات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ بیان فرمائی ہے کہ دوست محض اللہ ربانی باتوں کو سننے کے لئے شرکت کریں اس چھوٹے سے فقرہ میں بڑی حکمت کی بات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان کی ہے اور وہ یہ کہ جلسہ میں شمولیت کی غرض یہ نہ ہو کہ فلاں کی یا فلاں کی باتیں سننی ہیں۔غرض یہ ہو کہ ہم نے ربانی باتیں سننے کے لئے یہاں جمع ہونا ہے۔تو جہاں تک افراد اور انسانوں کا تعلق تھا۔ان کو ہمارے ذہنوں سے اس فقرہ نے محو کر دیا اور صرف یہ بات حاضر رہی کہ ہم نے خدا کے لئے جمع ہونا ہے۔تاہم خدا کی با تیں اس اجتماع میں سنیں خواہ وہ کسی منہ سے نکلیں اس سے یہ ذمہ داری بھی ہم پر عائد ہوتی ہے کہ جو دوست جلسہ میں شمولیت کے لئے باہر سے تشریف لائیں یا وہ مقامی دوست جو جلسہ میں کسی کام پر کسی فرض کو ادا نہ کر رہے ہوں وہ اپنا وقت ضائع نہ کریں بلکہ تقاریر کے پروگرام میں زیادہ سے زیادہ حصہ لیں اور یہ ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ جلسہ گاہ میں نہایت خاموشی کے ساتھ بیٹھیں اور نہایت غور کے ساتھ تقاریر کوسیں تا کہ وہ ربانی باتیں دل اور دماغ میں اتر جائیں جو اس پروگرام کے ماتحت اس جلسہ میں بیان کی جائیں۔بعض دوست اپنی غفلت یا لا پرواہی کی وجہ سے جلسہ کی تقاریر کے پروگرام میں پوری توجہ سے اور شوق سے شامل نہیں ہوتے بلکہ ایک حصہ ادھر ادھر ضائع کر دیتے