خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 121
خطبات ناصر جلد دوم ۱۲۱ خطبہ جمعہ ۱۹ را پریل ۱۹۶۸ء حکمت کی باتیں دلوں کو فتح کرتی ہیں لیکن تمسخر اور سفاہت کی باتیں فساد پیدا کرتی ہیں جہاں تک ممکن ہو سکے سچی باتوں کو نرمی کے لباس میں بتاؤ تا سامعین کے لئے موجب ملال نہ ہوں۔جو شخص حقیقت کو نہیں سوچتا اور نفس سرکش کا بندہ ہوکر بدزبانی کرتا ہے اور شرارت کے منصوبے جوڑتا ہے۔وہ ناپاک ہے۔اس کو کبھی خدا کی طرف راہ نہیں ملتی اور نہ کبھی حکمت اور حق کی بات اس کے منہ پر جاری ہوتی ہے۔پس اگر تم چاہتے ہو کہ خدا کی راہیں تم پر کھلیں تو نفسانی جوشوں سے دُور ر ہوا اور کھیل بازی کے طور پر بخشیں مت کرو کہ یہ کچھ چیز نہیں اور وقت ضائع کرنا ہے بدی کا جواب بدی سے مت دو، نہ قول سے نہ فعل سے، تا خدا تمہاری حمایت کرے اور چاہیے کہ دردمند دل کے ساتھ سچائی کو لوگوں کے سامنے پیش کرو نہ ٹھٹھے اور ہنسی سے۔کیونکہ مُردہ ہے وہ دل جو ٹھٹھا نسی اپنا طریق رکھتا ہے اور ناپاک ہے وہ نفس جو حکمت اور سچائی کے طریق کو نہ آپ اختیار کرتا ہے اور نہ دوسروں کو اختیار کرنے دیتا ہے۔سو تم اگر پاک علم کے وارث بننا چاہتے ہو تو نفسانی جوش سے کوئی بات منہ سے مت نکالو کہ ایسی بات حکمت اور معرفت سے خالی ہوگی اور سفلہ اور کمینہ لوگوں اور او باشوں کی طرح نہ چا ہو کہ دشمن کو خواہ نخواہ ہتک آمیز اور تمسخر کا جواب دیا جاوے بلکہ دل کی راستی سے سچا اور پر حکمت جواب دو تا تم آسمانی اسرار کے وارث ٹھہرو۔اسی طرح جو منکر اور مخالف اور گندہ دہنی سے کام لینے والے اور انتہائی بد زبانی کرتے ہوئے گالیاں دینے والے ہیں ان کے متعلق آپ فرماتے ہیں :۔6 ”میں اپنی جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ ان کو مناسب ہے کہ ان کی گالیاں سن کر برداشت کریں اور ہر گز ہرگز گالی کا جواب گالی سے نہ دیں کیونکہ اس طرح پر برکت جاتی رہتی ہے۔وہ صبر اور برداشت کا نمونہ ظاہر کریں اور اپنے اخلاق دکھا ئیں۔یقیناً یا درکھو کرہ عقل اور جوش میں خطرناک دشمنی ہے جب جوش اور غصہ آتا ہے تو عقل قائم نہیں رہ سکتی لیکن جو صبر کرتا ہے اور بردباری کا نمونہ دکھاتا ہے اس کو ایک نور دیا جاتا ہے جس سے اس