خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 102
خطبات ناصر جلد دوم ۱۰۲ خطبه جمعه ۵ را پریل ۱۹۶۸ء جماعت کا یا بعض لوگوں کا جو اپنے آپ کو چوہدری سمجھتے ہیں ، پھنے خاں بنتے ہیں ان کا یہ کام نہیں۔في الأمر مشورہ جن سے کرنا ہے وہ بھی خلیفہ وقت کو اختیار دیا گیا ہے اور جن معاملات میں کرنا ہے وہ بھی خلیفہ وقت نے کرنا ہے کہ الامر سے کیا مراد ہے اور وہ جو پہلے میں نے آیت پڑھی تھی اس کے اس ٹکڑہ سے یہ بھی استدلال ہوتا ہے وہاں دراصل دو استدلال ہوتے ہیں ایک یہ کہ ہم سے مشورہ نہیں لیا جا تاهَلْ لَّنَا مِنَ الْأَمْرِ مِنْ شَیءٍ کہ جن امور کے متعلق مشورہ لیتا ہے۔نبی یا خلیفہ وقت اس کی نیابت میں اس کا فیصلہ ہم سے پوچھ کر نہیں کیا جا تا بلکہ خود کر دیا جاتا ہے کہ الامر کیا ہے؟ اس کے متعلق حضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں۔میں نے تجاویز پیش کرنے کا جو طریق رکھا تھا وہ اس خیال سے رکھا تھا کہ تجاویز میرے پاس آئیں گی اور میں ان میں سے جو مفید سمجھوں گا لے لوں گا مگر اب یہ صورت ہوگئی ہے کہ جس کی تجویز نہ لی جائے وہ سمجھتا ہے کہ اس کا حق مارا گیا۔( رپورٹ شوری ۱۹۳۰ء) تو جن اہم امور کے متعلق مشورہ دینا ہے یہ امور ایسے ہونے چاہئیں جن کا تعلق نصوص قرآنیہ یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے واضح ارشاد ہیں۔ان کا ان سے تعلق نہ ہو۔وہ تو ایک قانون ہے جس کو دنیا کی کوئی طاقت بدل نہیں سکتی اس میں انسان کی بہتری ہے اس رنگ کی جمہوریت جو آج کل مقبول ہورہی ہے وہ نہ یہ کہ اسلام میں نہیں بلکہ اسلام اسے ناپسند کرتا ہے۔اور اسلام نے مسلمان کی آزادی قرآن کریم کی شریعت کے احاطہ کے اندر رکھتی ہے اس سے باہر نہیں۔آج کی جمہوریت کا تو یہ حال ہے کہ انگلستان کی جمہوریت نے عوام کے نمائندوں نے یہ قانون پاس کر دیا ہے کہ بداخلاقی جائز ہے۔اس قسم کی جمہوریت اسلام کیسے پسند کر سکتا ہے؟ اور اگر آج کی جمہوریت کے مطابق اسلام مسلمانوں کو آزادی دیتا تو کسی وقت میں اپنے تنزل کے زمانہ میں مسلمان بھی اس قسم کی باتیں کرلیں۔اگر اس قسم کی جمہوریت مسلمانوں میں ہوتی تو اکثریت نے تو کہہ دیا تھا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو کہ زکوۃ لینے میں کچھ ڈھیل کر دی جائے مگر خدا کے اس پیارے بندے نے یہ کہا تھا کہ میں تمہارا نائب نہیں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نائب اور خلیفہ ہوں اور آپ کی نیابت میں جو میرے حقوق ہیں وہ حقوق تم سے منواؤں گا اور دین کے معاملہ میں