خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 1039
خطبات ناصر جلد دوم ۱۰۳۹ خطبہ جمعہ ۲۶ دسمبر ۱۹۶۹ء کبر اور غرور پیدا کرے اور نئے آنے والوں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھا جانے لگے اور اسی طرح بنی نوع انسان پر اللہ تعالیٰ کے قرب کی راہوں کو مشکل بنادیا جائے اس خیال کے ماتحت آپ نے فرمایا کہ یہ دستور ہونا چاہیے کہ کمزور بھائیوں کی مدد کی جاوے اور ان کو طاقت دی جاوے۔اسی طرح قرآن شریف میں آیا تَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوی۔کمزور بھائیوں کا بار اٹھاؤ عملی، ایمانی اور مالی کمزوریوں میں بھی شریک ہو جاؤ ، بدنی کمزوریوں کا بھی علاج کرو، کوئی جماعت، جماعت نہیں ہو سکتی جب تک کمزوروں کو طاقت والے سہارا نہیں دیتے اس کی یہی صورت ہے کہ ابتدا میں ان کی پردہ پوشی کی جائے۔صحابہ کو یہی تعلیم ہوئی کہ نئے مسلمانوں کی کمزور یاں دیکھ کر چڑو نہیں کیونکہ جب تم اسلام میں داخل ہوئے تھے تم بھی ایسے ہی کمزور تھے۔اسی طرح یہ ضروری ہے کہ بڑا چھوٹے کی خدمت کرے اور محبت اور ملائمت کے ساتھ برتاؤ کرے۔کس قدر شفقت ہے نئے آنے والوں کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دل میں اور یہ اس لئے کہ ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا جو اپنی گردن پر رکھتا ہے اس پر اللہ تعالیٰ کی عزت اور احترام کی مہر لگ جاتی ہے اور خدا دنیا کو یہ کہتا ہے کہ یہ میرا مکرم اور محبوب بندہ ہے دنیا اس میں کمزوریاں دیکھتی ہے اور وہ عَلامُ الْغُيُوبِ اس مقام کو دیکھ رہا ہے کہ جہاں وہ ایک وقت میں اپنے خون اور جان کو فدا کر کے پہنچنے والا ہے اور جو شخص اس طرح پر اپنی قربانیوں اور مقبول مجاہدات کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کی نگاہ میں عزت پانے والا ہے آج میرا اور تمہارا یہ حق نہیں ہے کہ اس کو حقارت کی نگاہ سے دیکھیں۔پس نئے آنے والوں سے محبت اور ملائمت اور پیار کا سلوک کرو جو شخص ایسا نہیں کرتا وہ اس حکم کو اچھی طرح نہیں سمجھتا جو شعائر اللہ کی عظمت اور احترام کے لئے دیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو علم اور معرفت اور عمل مقبول کی توفیق عطا کرے۔از رجسٹر خطبات ناصر غیر مطبوعہ )