خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 91 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 91

خطبات ناصر جلد دوم ۹۱ خطبه جمعه ۲۹ مارچ ۱۹۶۸ء میں گرفت نہیں کرتا میں تمہیں چھوڑتا ہوں اس لئے کہ کسی وقت تمہاری فطرت بیدار ہو جبکہ وہ پہلے سوئی ہوئی تھی یا کسی وقت تمہاری فطرت زندہ ہو جو پہلے مردہ یا نیم مردہ تھی اور تم اپنے گناہوں سے نجات کے طریق کو ڈھونڈنے کی خواہش اپنے اندر پاؤ اور تم یہ مجھو کہ ہم نے اپنے نفسوں پر بڑا ہی ظلم کیا تھا جب ہم نے نفسانی خواہشات کی پیروی کی تھی اور اللہ تعالیٰ کی ہدایتوں کو ٹھکرا دیا تھا۔چونکہ میں عذاب میں تاخیر ڈالتا ہوں اس لئے میں تمہیں کہتا ہوں کہ عذاب سے پہلے پہلے اگر انيبُوا اور أَسْلِمُوا پر عمل کرو گے تو تم میری مغفرت اور رحمت کو حاصل کر لو گے۔اگر تم ( جس طرح پہلے گناہ کی طرف بار بار لوٹتے تھے گناہ پر گناہ کرتے چلے جاتے تھے ) اب اپنے ربّ کی طرف بار بار لوٹو اور تو بہ کے بعد تو بہ کرتے چلے جاؤ اور اسلموا اگر تم اپنے تمام ارادوں اور نفسانی خواہشات سے کھوئے جاؤ اور خدا کی رضا میں محو ہو جاؤ خدا میں گم ہو کر ایک موت اپنے پر وارد کر لو تو جب نفسانیت پر موت وارد ہو جائے گی خدا تعالیٰ کی رحمت اپنے چمکتے ہوئے نور کے ساتھ دوبارہ تمہیں زندگی عطا کرے گی۔تو اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ فرمایا کہ قبل اس کے کہ میری گرفت، میرا قہر، میرا عذاب تم پر نازل ہو میری طرف جھکو ایک بار نہیں بار بار میری طرف لوٹو تو بہ کے ساتھ اور استغفار کے ساتھ اور اپنے دلوں کو ایسا بنالو کہ ہر غیر ایک مردہ تمہیں نظر آئے اور زندہ اور حیات کا چشمہ میری ذات کے علاوہ تمہیں کوئی نظر نہ آئے۔اگر تمہاری یہ کیفیت ہو جائے ، اگر تم بار بار توبہ کرنے والے ہو اور اسلام کی روح اور مغز تمہارے اندر پیدا ہو جائے تو اگر چہ ابھی تمہیں کسی عمل صالح کی توفیق نہیں ملی تب بھی میں تمہیں معاف کر دوں گا اور اپنی رحمت کی آغوش میں تمہیں لے لوں گا۔ہمیں اس دنیا میں نظر آتا ہے کہ بہت سے خدا کے بندے اس انابت کی طرف مائل ہوتے ہیں یعنی بار بار استغفار کے ساتھ اور توبہ کے ساتھ اپنے رب کی طرف جھکنے لگتے ہیں اور وہ اس یقین پر قائم ہو جاتے ہیں کہ جب تک ہم اپنی نفسانی خواہشات پر پورے طور پر موت وارد نہیں کریں گے ہم اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ زندگی حاصل نہیں کر سکیں گے لیکن قبل اس کے کہ کوئی عمل صالح وہ بجالا سکیں اجل آتی ہے اور اس دنیا سے وہ کوچ کر جاتے ہیں تو ان لوگوں کو بھی خدا نے کہا کہ