خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 1007 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 1007

خطبات ناصر جلد دوم 10+2 خطبه جمعه ۲۸ نومبر ۱۹۶۹ء قادیان میں پڑتا تھا پھر بہت سے دوست چند میل کے دائرہ کے اندر ربوہ سے باہر ٹھہر جاتے ہیں یہ علاقہ جلسہ سالانہ کے دنوں میں ربوہ ہی بنا ہوا ہوتا ہے۔کوئی چنیوٹ کے ریسٹ ہاؤس میں ٹھہرا ہوا ہوتا ہے، کوئی وہاں کسی واقف کے ہاں ٹھہرا ہوا ہوتا ہے، کوئی احمد نگر ( جور بوہ سے شمال مغرب میں ایک گاؤں ہے ) میں ٹھہرا ہوتا ہے اور پھر بعض دفعہ احمدی افسر نہر کے ان بنگلوں کو بک کروا لیتے ہیں جو ربوہ سے دس دس بارہ بارہ میل پر ہیں اور وہ وہاں ٹھہر جاتے ہیں اور وہاں اپنا انتظام کرتے ہیں۔صبح کو ربوہ آ جاتے ہیں اور جلسہ میں شامل ہوتے ہیں اور شام کو نمازوں سے اور دوستوں سے مل ملا کر فارغ ہوتے ہیں تو چند گھنٹے کے آرام کے لئے واپس چلے جاتے ہیں۔غرض اگر جلسہ سالانہ کے موقع پر ایک لاکھ سے زیادہ آدمی آتے ہیں تو ہم ایک وقت میں قریباً ساٹھ ہزار افراد کو کھانا کھلا رہے ہوتے ہیں یا پینسٹھ ہزار مہمانوں کو کھانا کھلا رہے ہوتے ہیں باقیوں کا انتظام اور ذرائع سے ہو رہا ہوتا ہے ممکن ہے وہ انتظام چکر میں ہو رہا ہو یعنی کسی نے دو پہر کا کھانا لنگر سے کھایا اور شام کا کھانا نہ کھا یا کسی نے شام کا کھانا کھایا اور صبح کا نہ کھایا بہر حال یہاں لنگروں پر نسبت کے لحاظ سے مہمانوں کا اتنا بوجھ نہیں ہوتا جتنا قادیان میں ہوتا تھا وہاں اگر سو میں سے نانوے مہمانوں کا انتظام نظام کو یا گھروں میں کرنا پڑتا تھا تو یہاں ۹۵ نہیں بلکہ شاید ۶۰ ، یا ۷۰ فیصدی مہمان بمشکل ایسے ہوں گے جن کا انتظام اجتماعی طور پر کرنا پڑتا ہے یار بوہ کے مکینوں کو کرنا پڑتا ہے دونوں کی نسبت تو مختلف ہے لیکن بہر حال اجتماعی طور پر اگر اس وقت سو میں سے نوے اجتماعی انتظام کے ماتحت تھے تو اب ۷۰ یا ۶۵ مہمان اجتماعی انتظام کے ماتحت ہیں۔غرض فرق پڑ گیا ہے لیکن جب یہ فرق ہمارے سامنے آتا ہے اور ہم اس کے متعلق سوچتے ہیں تو ہمیں خوشی نہیں ہوتی بلکہ ہمیں تکلیف ہوتی ہے کہ کیوں یہ لوگ اِدھر اُدھر ٹھہرتے ہیں کیوں ہمارے پاس نہیں آتے یعنی ہمارے دلوں میں یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ ہم دنیوی اور جسمانی لحاظ سے اور بھی زیادہ تکلیف اٹھا ئیں یعنی جس کو دنیا تکلیف سمجھتی ہے وہ اٹھا ئیں اور ہماری زبان اور اصطلاح میں یہ ہوگا کہ ہم اور بھی زیادہ آرام اور حظ اور خوشی محسوس کریں زیادہ مہمان ہوں گے تو ہمیں زیادہ خوشی ہوگی۔اللہ تعالیٰ ہمارے لئے ہمیشہ ہی زیادہ سے زیادہ خوشیوں کے سامان پیدا 7