خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 1005
خطبات ناصر جلد دوم ۱۰۰۵ خطبه جمعه ۲۸ نومبر ۱۹۶۹ء آتے ان کو تو اگر سر چھپانے کے لئے جگہ مل جائے تو وہ اس کو بھی اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے اور انسان کا بڑا ممنون ہوتے ہوئے قبول کر لیتے ہیں۔میں نے پہلے بھی بتایا ہے کہ ایک دفعہ میں جب میں افسر جلسہ سالا نہ تھا ایک کام کے لئے پھر رہا تھا کہ میری نظر ایک احمدی امیر دوست پر پڑی جو بہت لیٹ آئے تھے غالباً اس صبح جلسہ کا افتتاح ہو چکا تھا اور جب میں جلسہ گاہ سے کسی کام کی غرض سے باہر نکلا تو میں نے دیکھا کہ انہوں نے سوٹ کیس اٹھایا ہوا ہے اور مجھے شبہ ہوا کہ یہ ابھی یہاں پہنچے ہیں۔میں ان کے پاس گیا اور ان سے دریافت کیا کہ کیا آپ کے پاس ٹھہرنے کا انتظام ہے آپ نے جگہ کے لئے پہلے لکھا ہوا ہے یا نہیں آپ کی رہائش کا کیا انتظام ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ میں ابھی یہاں پہنچا ہوں اور ابھی میں نے ٹھہرنے کے لئے کوئی انتظام نہیں کیا۔میں نے کہا پھر آپ نے بڑی غلطی کی ہے آپ نے پہلے لکھا نہیں اس لئے کوئی انتظام نہیں ہوا اللہ تعالیٰ نے ان کو اتنی دولت دی ہے کہ وہ بعض دفعہ ہنگامی چندوں میں ہیں بیس ہزار روپیہ بھی دے دیتے ہیں خدا تعالیٰ نے انہیں بڑی فراخی عطا کی ہے لیکن مزید فراخی کے لئے تو ایسے لوگ جو مخلص ہیں یہاں آتے ہیں بہر حال میں نے ان سے کہا میرے ساتھ چلیں تا میں آپ کے لئے کوئی انتظام کر دوں چنانچہ میں نے انہیں ساتھ لیا اس وقت تو ان کے گھر سے ان کے ساتھ نہیں تھے لیکن وہ بھی جلسہ سالانہ پر آئی ہوئی تھیں اور اس وقت کسی اور جگہ ان کا انتظام کر رہی تھیں۔میں ان کے لئے ایک چھوٹا سا کمرہ جو شاید اس گھر کا سٹور تھا یا غسل خانہ خالی کر اسکا اور میں نے وہاں پر الی بچھوادی یا کہہ دیا کہ یہاں پر الی بھجوا دی جائے اور میں نے دیکھا کہ وہ دوست بہت خوش تھے اور معلوم ہوتا تھا کہ پتہ نہیں انہیں کتنی بڑی نعمت مل گئی ہے پس یہاں جو مہمان آتے ہیں وہ یہاں اپنے گھروں والا آرام حاصل کرنے نہیں آتے لیکن بہر حال سردی کے موسم میں سر چھپانے کی جگہ تو انہیں ملنی چاہیے جس طرح باہر سے آنے والے اخلاص کا مظاہرہ کر رہے ہوتے ہیں ان کے مقابلہ میں اگر ہم ان سے بڑھ کر اخلاص کا مظاہرہ دکھاوے کے لئے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کو خوش کرنے کے لئے ) نہ کریں تو بہر حال باہر سے آنے والے یہاں کے رہنے والوں سے بڑھ جائیں گے لیکن ہم انہیں کیوں بڑھنے دیں ہمارے دلوں میں بھی یہ عزم ہونا چاہیے ہمارے دلوں میں بھی ایک پختہ ارادہ