خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 988
خطبات ناصر جلد دوم ۹۸۸ خطبہ جمعہ ۲۱ نومبر ۱۹۶۹ء پر ان کو سمجھایا کہ دیکھو صرف ظاہر کے خیال رکھنے کی وجہ سے مخلوق خدا سے ڈر لگتا ہے مگر ہم لوگ باطن کا خیال رکھتے ہیں اس واسطے خدا کی مخلوق کا خوف نہیں کھاتے۔اللہ تعالیٰ کی بندگی میں ڈوبے رہتے ہیں اس کا رنگ اپنے اوپر چڑھانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے مقابلے میں ہر چیز کو ایک مُردہ سمجھتے ہیں۔پس جو خالص تو حید ہے اس کا تقاضا یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے سوا ہر دوسری مخلوق کو اپنی ذات میں مردہ اور نیست سمجھا جائے کیونکہ ایسا شخص اس حقیقت پر قائم ہوتا ہے کہ انسانی حیات اور بقا اور اُس کا قیام اللہ تعالیٰ کے فضل کے سہارے کا محتاج ہے اور زندگی کا دارو مدار اللہ تعالیٰ کے فضل پر منحصر ہے۔اگر وہ زندہ نہ رکھنا چاہے تو کوئی مخلوق فنا کا لباس پہنے بغیر رہ نہیں سکتی اور باقی بھی وہی رکھتا ہے کیونکہ وہ قیوم بھی ہے اسی کی ذات سے دنیا اور اس کی اشیاء قائم ہیں۔پس جو تو حید خالص پر قائم ہو اُس کو شیر سے ڈر نہیں لگتا۔شیر تو پھر بھی ناسمجھ جانور ہے اس کو سارے کفار مکہ سے بھی ڈر نہیں لگتا آخر سارے کفار بھی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے میں اکٹھے ہو گئے تھے مگر اس پاک وجود صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے مات کھا گئے۔اسی طرح آپ کے جو تبع اور آپ سے محبت کرنے والے اور فدائی اور جاں نثار خادم ہیں وہ بھی اللہ تعالیٰ کی کسی مخلوق سے خوف نہیں کھاتے اس لئے کہ ان کے آقا اور مطاع اور محبوب صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں توحید حقیقی پر قائم کر دیا ہے۔پس بہت سے ظاہری سجدے کرنا اور روزے رکھنا یا اسراف کرتے ہوئے اموال کو خرچ کرنا اور ظاہر یہ کرنا کہ یہ اللہ تعالیٰ کو خوش کرنے کے لئے ہے حالانکہ دل میں درحقیقت اس سے دنیا کو خوش کرنا مقصود ہو تو اس طرح کی عبادت وغیرہ کا کچھ بھی فائدہ نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کو مول لینے کے مترادف ہے۔پس صرف ظاہر پر زور دینا مناسب نہیں ہے۔یہ صحیح ہے کہ ظاہر کی اپنی ایک قیمت ہوتی ہے اور اس کا اپنا ایک فائدہ ہوتا ہے جس طرح اس مادی دنیا میں پھل بغیر چھلکے کے نہیں ہوتے اسی طرح روحانی دنیا میں بھی کوئی لذت اور سرور اور لذت اور سرور کا کوئی ذریعہ اور وسیلہ بھی بغیر چھلکے کے نہیں ہوتا۔اس کا بھی ایک ظاہر ہوتا ہے۔پس یہ درست ہے کہ باطن کے ساتھ ظاہری پاکیزگی کا جو تعلق ہے وہ بھی قائم رہنا چاہیے لیکن مغز اور حقیقت