خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 917 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 917

خطبات ناصر جلد اوّل ۹۱۷ خطبہ جمعہ ۲۹ ستمبر ۱۹۶۷ء Waqf-e-Jadid, and I fully realize that your needs for the spreading of Islam must have priority over my personal needs۔Please, therefore, accept the enclosed cheque for Rs۔50/- and grant me the opportunity of earning swab۔I may assure your holiness that your children, as willing to serve Islam as the though young, are grown-ups۔" یہ اس بچے کا خط ہے تو اس قسم کی نہایت حسین مثالیں بھی ہیں جو ہمارے بچوں میں پائی جاتی ہیں لیکن بچے کا ذہن اس قسم کے خیالات کا اظہار صرف اس وقت کر سکتا ہے جب وہ یہ دیکھے کہ اس کے ماحول میں ایسی باتیں ہو رہی ہیں اگر اس کے ماں باپ کو اسلام کی ضرورت کا خیال ہی نہ ہوا گر اس کے ماں باپ اسلام کی ضرورتوں کے متعلق اپنے گھر میں باتیں ہی نہ کرتے ہوں اگر اس کے ماں باپ اس کا تذکرہ گھر میں نہ کرتے ہوں کہ ہمیں اپنی ضرورتیں چھوڑ دینی چاہئیں اور آج اسلام کی ضرورت کو مقدم رکھنا چاہیے اگر یہ نہ ہو گھر کا ماحول تو گھر کے بچوں کی تربیت ایسی ہو ہی نہیں سکتی۔جیسا کہ آپ نے ابھی سنا کہ کس قسم کی تربیت اس بچے کی ہے۔چھوٹا بچہ ہے اور وہ اس قسم کا خط نہیں لکھ سکتا دلی جذبات سے، جب تک ایک پاک ماحول میں اس کی تربیت نہ ہوئی یہ احساس کہ میری ضرورتیں اسلام کی ضرورتوں پر قربان ہو جانی چاہئیں اگر ہر بچے کے دل میں پیدا ہو جائے تو ہمیں کل کی فکر نہ رہے۔ہم اس یقین سے پر ہو جا ئیں کہ جب آئندہ کسی وقت ہمارے بچوں کے کندھوں پر جماعت احمدیہ کا بوجھ پڑے گا وہ اسے خوشی اور بشاشت کے ساتھ اور اس بوجھ کا حق ادا کر تے ہوئے اس کو ادا کریں گے۔ہو۔اس خطبہ کے ذریعہ میں اپنے تمام بچوں کو جو احمدی گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے والدین اور گارڈینز ( سر پرستوں) کو اس طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ اگر آپ یہ پسند کرتے