خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 874 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 874

خطبات ناصر جلد اوّل ۸۷۴ خطبہ جمعہ ۱۵ رستمبر ۱۹۶۷ء نے بھی مجھے اپنے رویا اور کشوف لکھے۔شروع میں ہی ایک دوست نے لکھا کہ میں نے یہ خواب دیکھی ہے کہ ایک فتنہ سا ہے بیرونی بھی اور اندرونی بھی اور اندرونی فتنہ جو ان کو خواب میں دکھایا گیا تھا یہ تھا کہ بعض لوگ آپ پر یعنی مجھ خاکسار پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ یہ رویا اور کشوف بہت سنانے لگ گیا ہے۔جب انہوں نے اپنی یہ خواب لکھی تو میں نے اس سے دو نتیجے اخذ کئے اور میرے ذہن میں اس کی دو تعبیر میں آئیں ، ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ بہت بشارتیں دے گا اور دوسرا یہ کہ مجھے اس کا اظہار کر دینا چاہیے، کیونکہ جب تک یہ دونوں چیزیں نہ ہوتیں۔معترض اعتراض نہیں کر سکتا۔اگر بشارتیں ہی نہ ہوتیں تو ان کو بتائے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور اعتراض کا بھی سوال پیدا نہیں ہوتا۔اور اگر بشارتیں ہوں اور خاموشی اختیار کی جائے تو کوئی شخص اعتراض نہیں کرسکتا، نہ کسی کے علم میں بات آئے گی اور نہ وہ اعتراض کرے گا۔تو یہ دو باتیں میری سمجھ میں آئیں اور اسی وجہ سے میں نے اپنی عام عادت کے خلاف واپسی پر بہت سے کشوف اور رویا ، اپنے بھی اور اپنے بھائیوں اور بہنوں کے بھی مختلف خطبوں اور تقاریر میں بیان کر دیئے اور یہ کہ کر بیان کئے کہ ان کو ہم تحدیث نعمت کے طور پر بیان کرتے ہیں اور ان حاسد معترضین کو بھی موقع دیتے ہیں کہ وہ اپنی معترض طبیعت کو بہلا لیں اس میں ہمارا تو کوئی حرج نہیں۔تو ایک عظیم سلسلہ بشارتوں کا اس زمانہ میں جماعت احمدیہ کو ملا اور خدا جو اپنے وعدہ کا سچا ہے، جیسا کہ اس نے کہا تھا۔اکیس اللهُ بِكَافٍ عَبدہ اس نے اپنے وعدہ کو پورا کیا اور اس قسم کے سامان پیدا کر دیئے کہ کسی اور کی مدد اور نصرت کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوئی اور آسمان سے (ایسا معلوم ہوتا تھا ) فرشتوں کا نزول ہو رہا ہے اور اس علاقہ اور فضا کو اپنے تصرف میں لے لیتا ہے جہاں ہم سفر کر رہے ہوتے ہیں۔ایک موقعہ پر ( ہے تو یہ چھوٹی سی بات لیکن لطف بڑا دیتی ہے۔ہمیں سفر کے انتظامات کے سلسلہ میں کچھ فکر تھی اس کے لئے ہم انتظام کر رہے تھے اور نا کام ہو رہے تھے، یہاں تک کہ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب جیسے مشہور انسان جن کی لوگ