خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 834
خطبات ناصر جلد اول ۸۳۴ خطبه جمعه ۲۵ /اگست ۱۹۶۷ء تھے اور انہوں نے یہ شائع کیا کہ یہ کہتے ہیں کہ تم اسلام کو قبول کرو ورنہ تباہ ہو جاؤ گے۔اس کے بعد ہم ہمبرگ پہنچے ہیمبرگ میں چار روزانہ اخبار ہیں جرمنی میں صرف دو اخبار ایسے ہیں جو سارے جرمنی میں پڑھے جاتے ہیں بلکہ ساری دنیا میں پڑھے جاتے ہیں اور لندن ٹائمز کے ہم پلہ ہیں باقی سارے اخبار مقامی ہیں۔بہر حال ہیمبرگ میں چاروزانہ اخبار ہیں جن میں سے تین صبح کو چھپتے ہیں اور ایک شام کو چھپتا ہے جو اخبار صبح کو چھپتے ہیں ان میں سے ایک ان دو اخبارات میں سے ہے جوصرف جرمنی میں ہی نہیں پڑھے جاتے بلکہ ساری دنیا میں جہاں جرمن زبان بولی جاتی ہے پڑھے جاتے ہیں اور یہ اطلاع مجھے کراچی میں پریس میں کام کرنے والے ایک غیر احمدی دوست نے دی جب میں نے اخبار کا نام لیا ، ڈی ویلٹ ، تو اس نے کہا اچھا یہ اخبار ہے یہ تو ساری دنیا میں جاتا ہے اور جرمنی کے دو بڑے اخباروں میں سے ایک ہے اس کے علاوہ تین اور اخبار ہیں اور وہ اپنے علاقہ میں پڑھے جاتے ہیں۔گویا صرف چار اخبار ہیں باقی نیوز ایجنسیز جیسے ہمارے ہاں اے پی پی وغیرہ ہے پھر ریڈیو ہے وغیرہ وغیرہ ، ہمارے مبلغوں کا اثر ورسوخ ہے حکومت سے بھی ان کے تعلقات ہیں محکمہ اطلاعات و انفارمیشن کو جب پر یس کا نفرنس کے متعلق علم ہوا تو انہیں خیال آیا کہ کہیں یہ مایوس نہ ہو جائیں چنانچہ انہوں نے فون کر کے بتایا کہ حکومت کی طرف سے ہم پر یس کا نفرنس بلاتے ہیں ، بڑا زور لگاتے ہیں ، روپیہ خرچ کرتے ہیں ، تب جا کر کہیں سات آٹھ یا نو نمائندے آتے ہیں اگر آپ کی پریس کانفرنس میں تھوڑے نمائندے ہوں تو آپ مایوس نہ ہوں ہمارے ملک کا یہی طریق ہے۔خیر انہوں نے وارننگ دی اور وارنگ بھی اپنی محبت اور تعلق کی وجہ سے دی تا کہ ہم مایوس نہ ہو جائیں وہاں ایک اٹلانٹک ہوٹل ہے جس میں یہ پریس کانفرنس ہوئی میں جب وہاں گیا تو میں نے دیکھا کہ وہاں ۳۵ نمائندے بیٹھے ہوئے ہیں ان چاروں اخباروں کے نمائندے تھے ہفتہ وار اخباروں کے نمائندے تھے دو نمائندے ریڈیو کے تھے۔(وہاں دو مختلف ریڈیو پروگرام ہیں اور ان میں سے ہر ایک نے علیحدہ علیحدہ اپنی انڈی پینڈنٹ ٹیم بھیجی ہوئی تھی ) نیوز ایجنسیز کے نمائندے تھے پھر وہاں رواج ہے کہ فوٹوگراف مہیا کرنے والی بھی انڈی پینڈنٹ ایجنسیاں ہیں وہ فوٹو لے لیتی ہیں اور ہر اخبار کو بھیج دیتی ہیں اور