خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 771
خطبات ناصر جلد اوّل خطبہ جمعہ ۳۰ جون ۱۹۶۷ء ان روحانی نعمتوں اور برکات سے خود کو بھی محروم کر رہی ہے اور اپنی نسل کو بھی آگے محروم کر رہی ہے اور ہر وہ ماں جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے قرآن کریم کے اسرار روحانی سمجھنے کی توفیق عطا کی ہے۔اگر وہ ان اسرار روحانی کو اپنی نسل میں آگے نہیں چلاتی اس سے بڑھ کر ظلم کرنے والی کوئی ماں نہیں ہے۔دوسری اور تیسری چیز جس کی طرف آج میں دوستوں کو تو جہ دلانا چاہتا ہوں وہ تحریک جدید کا دفتر سوم اور وقف جدید میں جو بچوں میں تحریک کی گئی تھی یہ دو باتیں ہیں۔دفتر سوم کی طرف بھی جماعت نے ابھی پوری توجہ نہیں دی ہزاروں احمدی ایسے ہیں جو تحریک جدید میں حصہ نہیں لے رہے اور ان میں سے بڑی بھاری اکثریت ہماری احمدی مستورات کی ہے جیسا کہ دفتر کی طرف سے مجھے بتایا گیا ہے اس کا مطلب یہ ہوا کہ جماعت میں ہزاروں احمدی بہنیں ایسی ہیں اور ہزاروں احمدی بچے اور نوجوان ایسے ہیں اور ہزاروں احمدی بالغ مرد ایسے ہیں جنہوں نے ابھی تک تحریک جدید کی اہمیت کو سمجھا ہی نہیں اور اس کی برکات سے وہ واقف ہی نہیں اسلام کی ضرورتوں سے وہ آگاہ ہی نہیں ان ضرورتوں کے پیش نظر ان پر جو ذمہ داری عائد ہوتی ہے وہ اس سے غافل ہیں۔پس تحریک جدید کے دفتر سوم کی طرف خصوصاً احمدی مستورات اور عموماً وہ تمام احمدی مرد اور بچے اور نوجوان جنہوں نے ابھی تک اس طرف توجہ نہیں کی وہ اس طرف متوجہ ہوں اور اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے کی کوشش کریں۔میں نے یہ کہا تھا کہ وقف جدید میں اگر ہمارے بچے دلچسپی لینے لگیں اور صحیح معنی میں دلچسپی لینے لگیں تو میں سمجھتا ہوں کہ وقف جدید کا سارا مالی بار ہمارے بچے بڑی آسانی سے اپنے کندھوں پر اُٹھا سکتے ہیں لیکن بچے اپنی نا کبھی کی وجہ سے کیونکہ ان میں سے بہتوں کی عمر ہی ایسی ہے جو اس ذمہ داری کو سمجھ ہی نہیں سکتی لیکن بہت سی مائیں اپنی جہالت کی وجہ سے بچوں کو اس طرف متوجہ نہیں کر رہیں۔لجنہ کی یہ رپورٹ ہے کہ بہت سی مائیں ربوہ میں بھی ایسی پائی جاتی ہیں جن کو احساس ہی نہیں ہے کہ ان کے بچوں کو وقف جدید کے مالی بار کے اٹھانے کی طرف متوجہ ہونا