خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 748 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 748

خطبات ناصر جلد اول ۷۴۸ خطبہ جمعہ ۱۶ جون ۱۹۶۷ء آیات بینات کا ایک لامتناہی سلسلہ مشاہدہ کرنے لگے گی۔وہ الکتب کی تعلیم دے گا اور جو احکام وہ اس کامل اور مکمل کتاب سے بیان کرے گا ان کی حکمت بھی ساتھ ہی ساتھ انہیں بتائے گا دیکھو وَ اَنْ اتْلُوا الْقُرآن میں یہ تینوں باتیں پائی جاتی ہیں آیات کا بیان کرنا کتاب کا سکھانا اور حکمت اور وجوہ کے متعلق تفصیلی روشنی ڈالنا۔یہ تینوں چیزیں جو اس دعا میں شامل تھیں وہ آن اتلُوا القُرآن میں پائی جاتی ہیں کیونکہ قرآن کریم کے محاورہ میں تلاوت کا لفظ آیات کے بیان کرنے اور ان کے سیکھنے اور سکھانے اور ان سے اثر قبول کرنے اور ان کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھالنے کے متعلق بھی بولا جاتا ہے اور کتاب اور اس کی حکمت کو پڑھنے ، سنانے اور اس پر عمل کرنے اور کروانے کے لئے بھی بولا جاتا ہے مفردات راغب میں تلاوت کے لغوی معنی یہ کئے گئے ہیں کہ الصَّلَاوَةُ تَخْتَصُّ بِإِتِبَاعِ كُتُبِ اللهِ الْمُنَزَّلَةِ تَارَةً بِالْقِرَآءَ ةِ وَتَارَةً بِالْارْتِسَامِ لِمَا فِيْهَا مِنْ أَمْرٍ وَنَهْيِ وَتَرْغِيْبٍ وَتَرْهِيْبٍ - کہ تلاوت خاص طور پر مخصوص ہے اس معنی کے ادا کرنے میں کہ ان کتب کی اتباع کی جائے جو آسمان سے نازل ہوتی ہیں اور یہ اتباع دو طریق سے ہوتی ہے، قراءت کے ساتھ اور احکام پر عمل پیرا ہو کر حکم کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے اندر جواوامر ونواہی ہیں ان پر عمل پیرا ہونا بھی تلاوت کے اندر شامل ہے) اور ترغیب و ترہیب کے ذریعہ سے وہ کتاب جو اثر ڈالنا چاہتی ہے اس اثر کو قبول کرے یعنی جو حکمتیں بیان کی گئی ہوں ان حکمتوں سے متاثر ہونا یہ معنی بھی تلاوت کے اندر پائے جاتے ہیں۔قرآن کریم میں سورۃ انفال میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ ايْتُهُ زَادَتْهُمْ إِيمَانًا (الانفال: ٣) یعنی کہ مومن وہ ہیں کہ جب آیات آسمانی ان پر تلاوت کی جاتی ہیں تو ان کی زیادتی ایمان کا باعث بنتی ہیں۔میں یہاں یہ بتا رہا ہوں کہ آیات کے متعلق بھی تلاوت کا لفظ قرآن کے محاورہ میں استعمال ہوا ہے اسی طرح کتاب کے پڑھنے اور جو کچھ اس میں بیان کیا گیا ہے اس پر عمل کرنے اور دنیا کے لئے اپنا اسوہ پیش کرنے کے متعلق بھی تلاوت کا لفظ استعمال ہوا ہے جیسا کہ