خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 674
خطبات ناصر جلد اوّل ۶۷۴ خطبہ جمعہ ۵ رمئی ۱۹۶۷ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس مضمون کو دو طرح بیان فرمایا ہے۔ایک یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اللہ تعالیٰ کے بے انتہا فیوض ہیں ان فیوض کی حد بندی نہیں کی جاسکتی اور چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر فیضانِ حضرت احدیت کے بے انتہا ہیں اس لئے درود بھیجنے والوں کو کہ جو ذاتی محبت سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے برکت چاہتے ہیں بے انتہا برکتوں سے بقد را اپنے جوش کے حصہ ملتا ہے۔اسی ضمن میں آپ ایک دوسری جگہ فرماتے ہیں کہ میں دیکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے فیوض عجیب نوری شکل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جاتے ہیں اور پھر وہاں جا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سینہ میں جذب ہو جاتے ہیں اور وہاں سے نکل کر ان کی لا انتہا نالیاں ہوتی ہیں اور بقدر حصہ رسدی ہر حقدار کو پہنچتی ہیں۔“ تو قرآن کریم یا اسلام کا یہ دعویٰ کہ میں ھدی للعلمین ہوں انسانی نفس کو اس کے کمالات تک پہنچانے والا ہوں، یہ اس طرح پورا ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود خدائے تعالیٰ کی نگاہ میں ایک ایسا پاک وجود ہے کہ اللہ تعالیٰ کی غیر محد و درحمتیں آپ پر نازل ہوتی رہتی ہیں یا یوں کہنا چاہیے کہ خدا تعالیٰ کی صفات کے غیر محدو د جلوے آپ پر ہر آن ظاہر ہوتے رہتے ہیں تو جو شخص بھی آپ سے محبت کرے گا اور آپ کے لئے برکت اور رحمت اور سلام چاہے گا اللہ تعالیٰ اسے ذاتی محبت کے بدلے کے طور پر ان تمام فیوض سے اس کو حصہ رسدی دیتا چلا جائے گا اور جب و شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل کچھ حاصل کر لے گا اس عرفان کے ساتھ کہ یہاں سے غیر محدود برکتیں حاصل کی جاسکتی ہیں تو مزید برکتیں آپ سے حاصل کرنے کے لئے اس کے دل میں خواہش پیدا ہوگی اور وہ زیادہ جوش کے ساتھ اور زیادہ قلبی محبت کے ساتھ آپ پر درود بھیجنے لگے گا اور پھر زیادہ برکات کا اس پر نزول شروع ہو جائے گا۔۔اور دوسرے قرآن کریم کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ فرمایا ہے کہ قرآن کریم کا بھی یہ دعویٰ ہے کہ میں غیر محدود انوار کے، میں غیر محدود برکات کے، میں غیر محدود مقامات قرب کے دروازے اپنے ماننے والوں اور قرآن کریم کی اتباع کرنے والوں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم