خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 540
خطبات ناصر جلد اول ۵۴۰ خطبه جمعه ۲۳ / دسمبر ۱۹۶۶ء بھی اتنا ہی پکاؤ جتنے کی ضرورت ہو گو ہماری جماعت میں تو بہت کم ہیں لیکن دنیا میں ایسے گھرانے بھی ہیں اور گھرانے کیا دنیا کی بعض قو میں ایسی ہیں۔جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اگر ان کے دستر خوان کے ٹکڑے اکٹھے کئے جائیں تو گاندھی جی کی قوم کا پیٹ بھر جائے اور ان کو کوئی فکر نہ رہے۔غرض وہ خوراک کو اس قدر ضائع کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہر قوم کو ابتلاؤں سے محفوظ رکھے ہندوستان کی جو حالت اس وقت ہے۔ہم اس سے خوش نہیں ہیں ہمیں ان کی یہ حالت دیکھ کر دکھ ہوتا ہے ہمیں ان پر رحم آتا ہے۔ہم انہیں حقارت کی نگاہ سے نہیں دیکھتے۔بلکہ انہیں رحم کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔مجھے تفصیل کا تو علم نہیں لیکن بعض اخباری خبروں میں یہ تھا۔(واللہ اعلم وہ خبریں ٹھیک بھی ہیں۔یا نہیں ) کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے حالات ایسے کر دیئے ہیں کہ بعض لوگوں نے ہیں سیر چاول کے بدلہ اپنے بچے فروخت کر دیئے ہیں۔یعنی ہیں سیر چاول لے گئے اور بچہ فروخت کر دیا۔غرض ہندوستان کے بعض حصوں میں اس حد تک غذائی قلت ہے۔اللہ تعالیٰ ان لوگوں پر رحم کرے۔کیونکہ وہ رب ہے تمام جہانوں کا۔وہ شیطانوں کے چیلوں کو بھی کھلاتا ہے اس نے ابو جہل کی روزی پر بھی کوئی پابندی نہیں لگائی تھی اور دنیا میں جتنے انبیاء بھی گزرے ہیں وہ ان کے اشد ترین مخالفوں کو بھی اس وقت تک روزی دیتا چلا گیا جب تک کہ اس نے ان کی ہلاکت کا فیصلہ نہ کر لیا الا مَا شَاءَ اللهُ بعض دفعہ قحط کی شکل میں بھی دنیا پر عذاب نازل ہوا ہے۔لیکن عام طور پر ایسا ہی عذاب نازل ہوا ہے جس کے نتیجہ میں کفار بھو کے نہیں مرے بلکہ جب خدا تعالیٰ نے ان کی ہلاکت کا فیصلہ کر دیا تو اس کی کسی اور قہری تجلی نے انہیں کلیتاً ہلاک کر دیا اور ان کا نام و نشان بھی نہ چھوڑا۔اللہ تعالیٰ دنیا کی سب قوموں کو اپنی اس قسم کی قہری تجلی سے محفوظ رکھے۔بہر حال اس وقت ہندوستان میں بھی غذائی قلت ہے۔ان کے لئے بھی دعائیں کرنا چاہیے اور ہمارے ملک میں جیسا کہ میں نے بتایا ہے۔اس قسم کی غذائی قلت تو نہیں ہے لیکن بہر حال ایک غذائی بحران ضرور ہے۔بعض دفعہ کہہ دیا جاتا ہے کہ چونکہ بجلی نہیں ہے اس لئے ملیں پوری طرح آٹا نہیں ہیں رہیں اور ہم پورا آٹا نہیں دے سکتے یہ