خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 525
خطبات ناصر جلد اول ۵۲۵ خطبہ جمعہ ۱۶ رودسمبر ۱۹۶۶ء اختیار کیا تو اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرنے لگے گا تو وہ اسے کرنے لگ جائے گا یا ترک کر دے گا۔غرض اس اصول کے مطابق وہ بعض چیزوں کو ترک کرتا ہے اور بعض چیزوں کو اختیار کرتا ہے۔پھر تقوی ہی یہ بتاتا ہے کہ نیکی اور بدی کا فیصلہ میرے اختیار میں نہیں بلکہ جو چیز اور جب میرا ربّ کہے کہ کرو، مجھے کرنی چاہیے اور جب اور جس چیز کے متعلق وہ کہے کہ نہ کرو مجھے وہ نہیں کرنی چاہیے اسلام کی روح اور حقیقت یہ ہے اور اگر آپ غور کریں تو آپ اسی نتیجہ پر پہنچیں گے کہ اس مقام کو حاصل کر لینے کے بعد انسان پر کلی فناوارد ہو جاتی ہے۔اس کا اپنا کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔اس کی ہر حرکت اور اس کا ہر سکون اپنے مولیٰ کے لئے ہو جاتا ہے۔وہ کسی چیز سے اس لئے نفرت نہیں کرتا کہ اس کی طبیعت یا اس کی عقل اس چیز کو برا سمجھتی ہے بلکہ وہ صرف اس وقت ان چیزوں اور ان اعمال سے نفرت کرتا اور ان سے پر ہیز کرتا ہے۔جب وہ یہ سمجھتا ہے کہ میرا خدا یہ کہتا ہے یہ چیزیں یہ اعمال قابل نفریں ہیں اور یہ کہ ان کے قریب بھی تمہیں نہیں جانا چاہیے۔وہ یہ ایمان رکھتا ہے کہ مجھے اس بات کی سمجھ آئے یا نہ آئے کہ یہ چیزیں کیوں قابل نفرت ہیں لیکن چونکہ وہ میرے رب کو پسند نہیں اس لئے مجھے بھی پسند نہیں۔غرض جب وہ کسی چیز کو اچھا سمجھتا اور محبت اور شوق کے ساتھ اسے کرتا اور اس پر عمل پیرا ہو کر ہر قسم کی دنیوی تکالیف اپنے اوپر لیتا ہے تو اس لئے نہیں کہ دنیا اس چیز کو اچھا سمجھتی ہے یا اس کا نفس اس چیز کو اچھا سمجھتا ہے بلکہ صرف اور صرف اس وجہ سے کہ وہ اس یقین پر قائم ہوتا ہے کہ میرے محبوب میرے رب کی نگاہ میں ایسا کرنا محبوب اور پیارا ہے اور اگر میں یہ اعمال بجالاؤں تو میرا خدا مجھ سے خوش ہو جائے گا۔کوئی مقصد اس کے سامنے نہیں ہوتا۔سوائے اپنے رب کی رضا کے اور اسے کسی چیز کی تلاش نہیں ہوتی سوائے اپنے پیدا کرنے والے کی محبت کے۔اللہ تعالیٰ اس مختصر سی آیت میں جو میں نے پڑھی ہے بڑا ہی لطیف مضمون بیان کرتا ہے کہ اے وہ لوگو! جو ایمان لانے کا دعویٰ کرتے ہو۔جو یہ کہتے ہو کہ ہم نے اپنے رب کو ان پاکیزہ اور مقدس اور کامل اور مکمل صفات کے ساتھ مانا ہے جو اسلام نے اس کی پیش کی ہیں اور جو یہ دعویٰ کرتے ہو کہ اس کی بھیجی ہوئی آخری شریعت پر ہم ایمان لائے۔جو یہ دعویٰ کرتے ہو کہ ہم اس کے