خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 507 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 507

خطبات ناصر جلد اول خطبه جمعه ۲۵ نومبر ۱۹۶۶ء تو پہلی چیز تو قرآن کریم ہے جس کے ذریعہ سے جسے پڑھ کے، جسے سمجھ کے، جس کی تفاصیل کا علم حاصل کر کے اور پھر اس کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھال کر ہم اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کر سکتے ہیں۔پس پہلے تو یہ بتایا کہ تم نے ایک عہد باندھا ہے اسے مضبوطی سے پکڑے رکھنا اور ساتھ ہی اسی لفظ میں ایک دوسرے معنی کے لحاظ سے ہمیں یہ بتایا کہ اس عہد کو مضبوطی سے کیسے پکڑا جا سکتا ہے۔( یعنی قرآنی ہدایت و شریعت پر عمل کر کے اور اسے حرز جان بنا کر )۔اور حبل اللہ کے تیسرے معنی ہیں وصل اور وصال کے ، مقام قرب کے حصول کے۔تو فر ما یا کہ جب تم اللہ تعالیٰ تک پہنچ جاؤ اور تمہیں اس کا قرب حاصل ہو جائے تو اس مقام قرب کی حفاظت کرتے رہنا اور صدق و وفا کے ذریعہ شیطانی حملوں سے اسے بچانا۔تو پہلے یہ کہا کہ اپنے عہدوں پر مضبوطی سے قائم رہو۔پھر یہ فرمایا کہ ان عہدوں پر مضبوطی سے قائم ہونے کے یہ معنی ہیں کہ وہ راستے وہ طریق جو قرآن کریم نے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ نے اور آپ کے ارشادات نے خدا تعالیٰ تک پہنچنے کے لئے تمہیں بتائے ہیں ان کو لازم پکڑو۔اس طرح تم خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کر لو گے۔تیسرے یہ حکم دیا کہ جب تم مقام قرب کو پا لو تو پھر بھی تم شیطان سے محفوظ نہیں جب تک کہ اسی حالت میں وفات نہ ہو جائے اور انسان کا انجام بخیر نہ ہو جائے۔اس سے پہلے شیطان ساری زندگی میں انسان پر حملہ آور ہوتا رہتا ہے۔اپنی پوری کوشش کرتا ہے کہ خدا کا وہ بندہ جس نے اعمالِ صالحہ اور مجاہدات کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل کو جذب کر کے اس کے قرب اور اس کی رضا کو حاصل کیا تھا وہ شیطان اس بندۂ خدا کو اس مقام سے پرے ہٹا دے۔جیسا کہ مذہب کی تاریخ میں اس کی بہت سی مثالیں ملتی ہیں کہ خدا کے بعض بندوں نے اس کا قرب حاصل کیا۔بعد میں شیطان نے ان پر کامیاب حملہ کیا اور مقام رفعت سے گرا کے انہیں نار جہنم میں دھکیل دیا۔جیسا کہ خود حدیث میں آتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بعض صحابہ کے متعلق کہیں گے کہ یہ میرے صحابہ تھے ، جہاں تک میرا علم ہے انہوں نے میری باتوں کو سنا اور مانا اور ان پر عمل بھی کیا ، ان کو جہنم کی طرف کیوں لے جایا جارہا ہے۔تو آپ کو بتایا جائے گا کہ آپ کی وفات کے بعد جو بد اعمالیاں ان سے سرزد ہو ئیں ، آپ ان سے واقف نہیں