خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 499 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 499

خطبات ناصر جلد اوّل ۴۹۹ خطبہ جمعہ ۱۸/ نومبر ۱۹۶۶ء جائے گی یا امور عامہ کیس کو اپنے ہاتھ میں لے گا یا میرے پاس شکایت آئے گی تو مجھے تو کسی کا ڈر نہیں ! میں تو خدا کی عظمت اور اس کے جلال کے قیام اور خدا کے قائم کردہ سلسلہ کی عزت کے قیام کے لئے ساری دنیا سے بھی نہیں ڈرتا۔ایک یا دو آدمیوں کی تو بات ہی نہیں۔میں چونکہ خطبہ کو مختصر کرنا چاہتا ہوں۔اس لئے دوستوں سے ایک آخری بات کہ دیتا ہوں۔وہ یہ کہ جتنے خلفاء راشدین ہوئے ہیں ( یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سے خلافتِ راشدہ شروع ہوئی۔پھر اس خلافت کے بعد کچھ اور لوگ آگئے۔آخر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے پھر خلافت کا مضبوط نظام قائم فرمایا اور یہ نظام اس وقت تک قائم رہے گا جب تک کہ جماعت اپنے آپ کو خدا کی نگاہ میں اس انعام کی مستحق ثابت کرتی جائے گی ) ان تمام خلفاء کے حالات کا مطالعہ کرو تو تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ وہ تمام خلفاء تذلل اور فروتنی اور عاجزی کی راہوں کو اختیار کرتے چلے آئے ہیں۔میں نے بھی خدا کے حکم کے مطابق اس کی رضا کے لئے اور تمام خلفاء راشدین کی سنت کے مطابق عجز کی راہوں کو اختیار کیا ہے۔میں آپ میں سے آپ کی طرح کا ہی ایک انسان ہوں اور آپ میں سے ہر ایک کے لئے اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں اتنا پیار پیدا کیا ہے کہ آپ لوگ اس کا اندازہ بھی نہیں کر سکتے۔بعض دفعہ سجدہ میں میں جماعت کے لئے اور جماعت کے افراد کے لئے یوں دعا کرتا ہوں کہ اے خدا! جن لوگوں نے مجھے خطوط لکھے ہیں۔ان کی مرادیں پوری کر دے، اے خدا! جو مجھے خط لکھنا چاہتے تھے لیکن کسی ستی کی وجہ سے نہیں لکھ سکے ان کی مرادیں بھی پوری کر دے اور اے خدا! جنہوں نے مجھے خط نہیں لکھا اور نہ انہیں خیال آیا ہے کہ دعا کے لئے خط لکھیں اگر انہیں کوئی تکلیف ہے۔یا ان کی کوئی حاجت اور ضرورت ہے تو ان کی تکالیف کو بھی دور کر دے اور حاجتیں بھی پوری کر دے۔لیکن بعض دفعہ بعض نادان فنا اور نیستی کے اس مقام کو کمزوری سمجھنے لگ جاتے ہیں اور نہیں سمجھتے کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے بھی عاجزی کی راہ کو اختیار کیا حضرت عمر، حضرت عثمان ، حضرت علی رضی اللہ عنہم اور ان کے بعد جو خلفاء اور مجدد ہوئے۔انہوں نے بھی عجز کے اسی راستے کو اختیار کیا۔تو بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ شخص بڑا کمزور ہے کیونکہ یہ عاجزی اختیار کرتا ہے۔وہ