خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 439
خطبات ناصر جلد اوّل ۴۳۹ خطبه جمعه ۲۱/اکتوبر ۱۹۶۶ء اسلام کی تعلیم کی اشاعت کے لئے اپنے جسموں کی بھی اور اپنے اموال کی بھی قربانی دے رہے ہوں۔اگر ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت کے قیام کی خاطر آپ کے اُسوہ پر عمل کرتے ہوئے ، آپ کی نہایت ہی حسین اور خوبصورت عکسی تصویر دنیا کے سامنے پیش کر رہے ہوں۔تو یہ لوگ بھی اگر ظاہر میں نہیں تو دل میں ضرور شرمندہ ہوں گے کہ جنہیں ہم دنیا کا بھوکا کہتے تھے وہ تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غلام نکلے، جنہیں ہم دنیا کی عزتوں کے پیچھے دوڑنے والے قرار دیتے تھے۔وہ تو اسلام کی عزت قائم کرنے کے لئے اپنی ساری عزتیں قربان کر رہے ہیں۔تو یہ عملی جواب ہو گا جو ان لوگوں کو دیا جا سکتا ہے اور یہی عملی جواب ہے جس کی طرف میں اپنے بھائیوں کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔اعتراض ہوتے رہے ہیں اعتراض ہو رہے ہیں اور اعتراض ہوتے رہیں گے۔لیکن زبانی دعوؤں کے مقابلہ میں جس طرح براہین اور دلائل مضبوط چٹان کی طرح قائم رہتے ہیں اور زبانی دعوے انہیں تو ڑ نہیں سکتے۔اسی طرح ان اعتراضوں کے جواب میں اگر تم خدا تعالیٰ کے لئے جاں نثاری اور عاجزی کی راہوں کو اختیار کرو گے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خاطر آپ کے اسوہ کو اپناؤ گے اور اپنی زندگیاں انہی نقوش پر ڈھالو گے تو منکر بھی مخالف بھی ، معترض بھی شرمندہ ہو گا اور دنیا بھی حقیقت اور صداقت کو پالے گی۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔روزنامه الفضل ربوه ۲۶/اکتوبر ۱۹۶۶ ء صفحه ۳،۲)