خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 425
خطبات ناصر جلد اول ۴۲۵ خطبہ جمعہ ۷ /اکتوبر ۱۹۶۶ء جہاں ہم نے خدا اور رسول کے لئے دوسری قربانیاں کرنی ہیں۔وہاں ہم نے خدا اور اس کے رسول کے لئے مالی قربانیاں بھی دینی ہیں۔غرض ایک بچہ جب اٹھنی دے رہا ہوگا یا جب بعض خاندانوں کے سب بچے باہم مل کر ایک اٹھنی ماہوار وقف جدید میں دے رہے ہوں گے تو یہ ایک لحاظ سے ان کی تربیت ہوگی اس طرح ہم ان کے ذہن میں یہ بات بھی راسخ کر رہے ہوں گے کہ جب خدا تعالیٰ کسی کو مال دیتا ہے تو وہ مال جو اس کی عطا ہے بشاشت سے اسی کی طرف لوٹادینا اور اس کے بدلہ میں ثواب اور اس کی رضا حاصل کرنا اس سے زیادہ اچھا سودا دنیا میں اور کوئی نہیں۔پس اے احمدیت کے عزیز بچو! اٹھو اور اپنے ماں باپ کے پیچھے پڑ جاؤ اور ان سے کہو کہ ہمیں مفت میں ثواب مل رہا ہے۔آپ ہمیں اس سے کیوں محروم کر رہے ہیں۔آپ ایک اٹھنی ماہوار ہمیں دیں کہ ہم اس فوج میں شامل ہو جائیں۔جس کے متعلق اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ دلائل و براہین اور قربانی اور ایثار اور فدائیت اور صدق وصفا کے ذریعہ اسلام کو باقی تمام ادیان پر غالب کرے گی۔تم اپنی زندگی میں ثواب لوٹتے رہے ہو اور ہم بچے اس سے محروم رہے ہیں۔آج ثواب حاصل کرنے کا ایک دروازہ ہمارے لئے کھولا گیا ہے ہمیں چند پیسے دو کہ ہم اس دروازہ میں سے داخل ہو کر ثواب کو حاصل کریں اور خدا تعالیٰ کی فوج کے ننھے منے سپاہی بن جائیں۔اللہ تعالیٰ آپ سب کو اس کی توفیق عطا کرے۔( آمین ) روزنامه الفضل ربوه ۱۲ اکتوبر ۱۹۶۶ صفحه ۲ تا ۵)