خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 403 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 403

خطبات ناصر جلد اول ۴۰۳ خطبہ جمعہ ۱۶ رستمبر ۱۹۶۶ء والی فضل کرنے والی، احسان کرنے والی اور اپنی مغفرت میں ڈھانپ لینے والی ہستی۔تو فرمایا کہ ہم جو رحمن اور رحیم ہیں رحمت کا منبع اور سرچشمہ ہیں۔ہم نے قرآن مجید کو رَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِينَ ( مومنوں کے لئے بطور رحمت ) نازل کیا ہے۔تا اس کی تعلیم پر عمل پیرا ہو کر انسان ہماری رحمت اور مغفرت حاصل کرے اور اس کے ذریعہ سے روحانی بیماریوں کو دور کرے پھر اس کی ہدایت کے فیوض کے نتیجہ میں وہ روحانی ترقی کرتا چلا جائے اور اس کا انجام بخیر ہو۔لیکن فرماتا ہے کہ یہ بے شک ھدی اور رَحْمَةٌ ہے۔مگر هُدًى وَرَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِينَ جن لوگوں پر یہ کتاب نازل ہوئی ہے۔اگر وہ اس پر ایمان لانے کا اظہار اور اقرار نہ کریں اور اس کی بتائی ہوئی ہدایتوں کے مطابق اس پر عمل کرنے کی کوشش نہ کریں اور اپنی زندگیوں کو قرآن کریم کے مطابق نمونہ بنانے کی سعی نہ کریں اور اگر وہ خدا کی نگاہ میں حقیقی مومن نہ بنیں تو یہ کتاب ان کے لئے رحمت نہیں زحمت ہوگی۔کیونکہ ان کو ایک نور دیا گیا۔لیکن انہوں نے اس نور پر ظلمت کو ترجیح دی، ایک روشنی انہیں عطا ہوئی، لیکن وہ اس روشنی سے بھاگ نکلے اور اندھیروں میں جا چھپے۔ایک شفاء آسمان سے ان کے لئے نازل ہوئی مگر انہوں نے گند کو اختیار کیا اور بیماری کو صحت پر ترجیح دی۔پس جو مومن نہیں ان کے لئے یہ رحمت نہیں ہے، مگر جو مومن ہیں اللہ تعالیٰ کا فضل ان پر نازل ہوگا اور اس کی رحمتوں کے وہ وارث ہوں گے۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے دوسری آیت میں یہ فرمایا۔قُلْ بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِكَ فَلْيَفْرَحُوا هُوَ خَيْرٌ مِمَّا يَجْمَعُونَ (یونس: ۵۹) کہ اپنے عقائد، اعمال اور اخلاق حسنہ پر غرور نہ کرنا۔تم میں تکبر ، خود پسندی، خود نمائی اور ریا، پیدا نہ ہو۔اپنے کو کچھ نہ سمجھنا۔کسی خوبی کا مالک خود کو تصور نہ کرنا کہ تمہارا روحانی بیماریوں سے شفاء پا جانا اور رضاء الہی کی راہوں کو اختیار کر کے تمہارا انجام بخیر ہونا تمہاری کسی خوبی کی وجہ سے نہیں، بلکہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت سے وابستہ ہے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ خوش ہو اور سرور ابدی کے جام پیو کہ تمہارا رب محض اپنے فضل سے تم پر رجوع برحمت ہوا اور اس نے محض احسان کے طور پر تمہیں وہ دیا جو دنیا