خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 344
خطبات ناصر جلد اول ۳۴۴ خطبہ جمعہ ۲۹؍جولائی ۱۹۶۶ء یہ تو ایک مثال ہے جو اشارہ میں آپ کے سامنے پیش کر رہا ہوں۔ورنہ قرآن کریم بھرا پڑا ہے ایسی آیات سے جن سے ہمیں پتہ لگتا ہے کہ تو بہ کا طریق کیا ہے، وہ کون لوگ ہیں جو خدا تعالیٰ کی صفت قابلِ الثَّوبِ کو اپنے محسن عمل سے خدا تعالیٰ اور قرآن مجید کے بتائے ہوئے طریق کے مطابق جوش میں لاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ جو توبہ قبول کرنے والا ہے ان لوگوں کے لئے تو بہ کے دروازے کھول دیتا ہے۔بہر حال ہمیں اس جگہ قرآن کریم کی ایک اندرونی خوبی کی طرف جو اس میں پائی جاتی ہے متوجہ کیا گیا ہے کہ یہ قرآن کریم ایک ایسی کتاب ہے کہ اگر تم تو بہ کرنا چاہو تو صرف یہی تمہیں ہدایت دے سکتی ہے کہ تو بہ کس طرح کی جاتی ہے اور کن راہوں سے اللہ تعالیٰ نے جو تو بہ کے دروازے رکھے ہیں ان کو کھولا جاسکتا ہے۔(۵) پانچویں صفت قرآن مجید کی یہاں یہ بیان فرمائی گئی ہے کہ قرآن مجید اس خدا نے نازل فرمایا ہے جو شَدِیدُ الْعِقَابِ ہے۔کہ جب وہ سزا دینے پر آتا ہے تو بہت سخت سزا دیتا ہے۔اس عزیز و قھار کے قہر اور غضب اور لعنت اور سزا اور عذاب سے اگر بچنا چاہو تو اس کا طریق بھی یہی کتاب تمہیں بتلائے گی۔کبھی تمہارے دل میں پہلوں کی مثال بیان کر کے خوف اور خشیت پیدا کرے گی تا تم اس کی طرف جھکو اور اس کے رحم کو جذب کرو۔سورۃ الحاقۃ میں مثلاً شَدِیدُ الْعِقَابِ کی قدرت کی ایک مثال بیان کی ہے تا کہ دلوں میں خوف پیدا ہو اور انسان خدا کی طرف پیٹھ کرنے اور اس سے پہلو تہی کرنے سے بچے۔اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں بیان فرمایا ہے کہ نمود کی قوم ایک ایسے عذاب سے ہلاک کی گئی تھی جو اپنی شدت میں انتہاء کو پہنچا ہوا تھا۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَأَمَّا عَادَ فَأَهْلِكُوا بِرِيْجٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍ - سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَ ثَانِيَةَ أَيَّامٍ حُسُومًا فَتَرَى الْقَوْمَ فِيهَا صَرُعَى كَانَهُمْ أَعْجَازُ نَخْلِ خَاوِيَةٍ - فَهَلْ تَرَى لَهُمْ مِّنْ باقية - (الحاقة : ۷ تا ۹) لا