خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 333
خطبات ناصر جلد اول ۳۳۳ خطبہ جمعہ ۲۲؍جولائی ۱۹۶۶ء خدا کی عبادت کرتے ہیں تم بھی خدا کی عبادت کرتے ہو ، تم اپنی عبادات کرتے جاؤ ہم اپنی عبادت کرتے جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ سب سے راضی ہو جائے گا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ پہلے جو را ہیں مجھ تک پہنچنے کے لئے بنی نوع انسان کے سامنے رکھی گئی تھیں وہ اب سب منسوخ ہو گئیں۔اب مجھ تک پہنچنے کا راستہ قرآن کریم کا راستہ ہی ہے۔اس کی ایک موٹی مثال یہ ہے۔پہاڑ پر سفر کرتے ہوئے کئی جگہ آپ کو نظر آئے گا کہ بعض جگہ پہلے سڑک ہوتی تھی۔بارشیں ہوئیں یا پہاڑ گرے یا مرورِ زمانہ کے نتیجہ میں، وہ میٹلڈ روڈ (Metalled Road) جوتھی وہ بالکل اُکھڑ کھڑ گئی اور نا قابل استعمال ہوگئی یا پل گر گیا اور وہ پل دوبارہ بنایا نہیں گیا۔لیکن اس کی بجائے ایک نئی فراخ سڑک بنادی گئی۔اب کوئی اگر یہ کہے ٹھیک ہے یہ بھی ایک راستہ ہوا کرتا تھا تم اس نئے راستہ پر موٹر لے جاؤ میں اس پرانے راستہ پر لے جاتا ہوں“۔تو اس کا نتیجہ ظاہر ہے کہ وہ کھڑ میں گر پڑے گا اور مارا جائے گا۔آخری راستہ زیادہ وسیع ، زیادہ اچھا حکومت وقت نے عوام کے استعمال کے لئے بنایا ہے۔جو اس پر چلے گا وہی اس جگہ تک پہنچے گا۔جہاں تک یہ راستہ پہنچاتا ہے۔یہ ایک موٹی مثال ہے مادی دنیا کی۔قرآن کریم کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے سب دنیا کی پہلی کتب کو منسوخ کر دیا۔اب اُن کی پیروی کے نتیجہ میں تم لوگ مجھ تک نہیں پہنچ سکتے۔اگر میری رضاء کی راہوں کی تلاش ہو۔اگر تم میرے قرب کو ڈھونڈنے والے ہو تو صرف قرآن کریم کا ہی بتایا ہوا وہ صراط مستقیم ہے جو میرے تک تمہیں پہنچا سکتا ہے۔پہلی کتب میں اب یہ طاقت نہیں رہی ہے۔کیونکہ انسانی ایراد نے پرانی شریعتوں کو خطرناک اور مہلک بنادیا ہے۔چھٹی صفت قرآن کریم کی ان آیات میں یہ بیان فرمائی لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ کہ یہ قرآن كِتَابٌ فصلت ایتہ بھی ہے۔یہ رحمن اور رحیم خدا کی طرف سے نازل کردہ ہے۔قرآن بھی ہے۔عربی بھی ہے اس کے باوجود ہر آدمی کی سمجھ سے بالا بھی ہے۔یعنی اس کا یہ نتیجہ نہیں کہ ہر کس و ناکس اس تک پہنچ جائے۔کیونکہ یہ کتاب صرف ان لوگوں کو فائدہ پہنچانے والی ہے جو روحانی علوم رکھتے ہوں۔اس میں ایک مختلف پیرایہ میں لَا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ (الواقعة: ۸۰) کا مضمون بیان کیا گیا