خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 175
خطبات ناصر جلد اول ۱۷۵ خطبہ جمعہ ۱۱/ مارچ ۱۹۶۶ء کہلاتی ہے۔پس ان دو قسم کے قرب اور تعلق ایک طرف انسان سے محبت اور دوسری طرف اپنے خالق و مالک سے تعلق رکھنے والی ہستی کو ہم انسان کہتے ہیں اور إِنَّ الشَّيْطَنَ يَنْزَعُ بَيْنَهُم - إِنَّ الشَّيْطَنَ كَانَ لِلْإِنْسَانِ عَدُوّاً مبيناً میں اللہ تعالیٰ نے انسان کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔حالانکہ یہاں ضمیر بھی استعمال کی جاسکتی تھی اور کہا جا سکتا تھا کہ إِنَّ الشَّيْطَنَ كَانَ لَهُمْ عَدُوًّا مبينا۔لیکن یہاں ضمیر استعمال نہیں کی گئی نہ عباد کا لفظ دہرایا گیا بلکہ انسان کا لفظ استعمال کیا گیا ہے اور اس میں یہ حکمت ہے کہ انسان دو طرفہ تعلق قائم کرنا چاہتا ہے ایک طرف تو وہ اپنے بھائی انسان کے ساتھ تعلق قائم رکھنا چاہتا ہے اور دوسری طرف اپنے خالق ربّ کے ساتھ تعلق جوڑ نا چاہتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ انسان کو انسان کہا جاتا ہے۔بہر کیف یہاں فرما یا شیطان انسان کا دشمن مبین ہے اور مبین کے لفظ کے معنی اُردو میں کھلے کھلے کے کئے جاتے ہیں جو درست ہیں۔چنانچہ کہا جاتا ہے آبَانَ الشَّيْءُ اتَّضَحَ فَهُوَ مُبِين پس اس حصہ آیت کے معنی ہوں گے۔شیطان انسان کا کھلا کھلا دشمن ہے لیکن عربی زبان میں اس کے اور معانی بھی ہیں مثلاً کہتے ہیں آبَانَ الشَّيْءَ أَوْضَحَہ یعنی جب کسی شیء کے متعلق آبان “ کا لفظ استعمال کیا جائے تو اس کے معنی ہوں گے اسے واضح کر دیا اور شیطان جب انسان پر حملہ کرتا ہے تو چونکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل دی ہے اس لئے شیطان اس کی عقل کو چکر دینا چاہتا ہے اور اس کے سامنے بعض برائیوں کو وضاحت سے خوبصورت بنا کر پیش کرتا ہے کہ تمہیں ان پر عمل کرنا چاہیے۔حالانکہ وہ چیزیں خدا تعالیٰ سے دور لے جانے والی ہوتی ہیں۔حضرت آدم علیہ السلام کے ساتھ بھی اس نے یہی سلوک کیا تھا اور اس نے کہا تھا اگر تم یہ کام کرو گے تو تم کو ابدی جنت مل جائے گی۔گویا اس طرح اس نے بظاہر معقول اور روحانی دلیل دے کر آپ کو خدا تعالیٰ کے رستہ سے ہٹانے کی کوشش کی تھی۔پس ان معنوں کے لحاظ سے اِنَّ الشَّيْطَنَ كَانَ لِلْإِنْسَانِ عَدُوا مبینا کے یہ معنی ہوں گے کہ شیطان انسان کا کھلا کھلا دشمن ہے اور وہ اپنی ان باتوں کو جو خدا تعالیٰ سے دور لے جانے والی ہیں ایسی وضاحت سے بیان کرتا ہے کہ انسانی عقل انہیں صحیح سمجھنے لگ جاتی ہے اور اس میں وہ