خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 119 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 119

خطبات ناصر جلد اول ۱۱۹ خطبہ جمعہ ۲۸/جنوری ۱۹۶۶ء غرض جب تک اللہ تعالیٰ انسان کو اپنے فضل اور رحمت سے نہ نوازے اس وقت تک نہ تو اسے جنت مل سکتی ہے اور نہ خدا تعالیٰ کی رضا حاصل ہو سکتی ہے۔پس ایک طرف ہمیں یہ کہا گیا ہے کہ ڈرتے ڈرتے اپنی زندگی کے لمحات گزار و اور دوسری طرف یہ کہا گیا ہے کہ کبھی مایوس نہ ہونا کیونکہ مایوسی کفر کی علامت ہے اور وہ اسی دل میں پیدا ہوتی ہے جو خدا تعالیٰ کے احکام کا منکر اور اس کے احسانوں کا ناشکر گزار ہو جو شخص خدا تعالیٰ کے ان احسانوں کو جو ہر آن اس پر ہو رہے ہیں۔یا د کر نے والا ہو وہ اپنے اس احسان کرنے والے رب سے کس طرح مایوس ہوسکتا ہے۔غرض ہم نے زندگی کے یہ دن جو ہمیں عطا ہوئے ہیں ڈرتے ڈرتے گزارنے ہیں لیکن ہم نے خدا تعالیٰ سے کبھی مایوس نہیں ہونا۔کیونکہ وہ بڑا فضل کرنے والا بڑا رحم کرنے والا اور بڑا احسان کرنے والا ہے اور پھر ہمیں ہمیشہ اس سے یہ دعا کرتے رہنا چاہیے کہ اے خدا ہم تو نیستی محض ہیں ہم اور ہمارے اعمال کچھ بھی نہیں لیکن ہم تیری ذات پر کامل اور پوری امید رکھتے ہیں کہ تو ہم سے احسان فضل اور رحمت کا معاملہ کرے گا۔ہماری خطاؤں کو معاف کر دے گا ہمیں اپنی رضا کی جنت میں داخل کرے گا اور ہمیں توفیق دے گا کہ ہم تیرے شکر گزار اور حمد کرنے والے بندے بنے رہیں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے بندوں کے اس زمرہ میں شامل کرے جن سے وہ خوش ہوتا ہے اور اپنی رحمت سے انہیں نوازتا ہے۔(روز نامه الفضل ربوه ۱۶ / فروری ۱۹۶۶ء صفحه ۲ تا ۴)