خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 116
خطبات ناصر جلد اول خطبه جمعه ۲۸ جنوری ۱۹۶۶ء اے محمد (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) تو ان تمام بندوں کو جو تجھ پر اور مجھ پر ایمان لائے ہیں۔میرا یہ پیغام پہنچا دو کہ اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور وہ گناہ کے مرتکب ہوئے ہیں ان کے اعمال میں کچھ تقصیر بھی ہے اور گناہ کی آمیزش بھی ہے اور بعض لغزشیں بھی ان سے سرزد ہوئی ہیں۔تم اللہ تعالیٰ کی رحمت سے بھی مایوس نہ ہونا۔کیونکہ اللہ تعالیٰ سب گناہ بخش دیتا ہے وہ بخشنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے اگر تم سے بار با تقصیر میں اور گناہ سرزد ہوں تب بھی تم مایوس نہ ہو کیونکہ وہ بار بار رحم کرنے والا ہے اور تم سب اپنے رب کی طرف جھکو اور اس کے پورے پورے فرماں بردار بن جاؤ اس کے ارشاد اور ہدایت کے مطابق اچھے اعمال بجالا ؤ اور اس کی رضاء کو حاصل کرنے کی خاطر ان باتوں سے بچو جن سے بچنے کی اس نے تمہیں تلقین کی ہے۔اور مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَكُمُ الْعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنصَرُونَ - پیشتر اس کے کہ ایسا عذاب نازل ہو جس کے نزول کے بعد تمہاری مدد کو کوئی نہ پہنچ سکے۔یعنی اپنی زندگی میں اور موت سے پہلے اگر تم فرماں بردار بننے کی کوشش کرتے رہو گے۔تو اللہ تعالیٰ یقینا بخشنے والا ہے۔وہ تمہارے گناہ بخش دے گا لیکن اگر تم اپنی زندگی میں اور جب تک تمہارے ہوش وحواس قائم رہتے ہیں خدا تعالیٰ کی طرف توجہ نہ کرو اور اس کی پرواہ نہ کرو۔تم دین و دنیا کے ابتلاؤں کو اپنے لئے ایک مصیبت جانو اور بدعملی ریاء اور استکبار میں اپنی زندگی گزار دو تو موت کے وقت تمہارا پچھتانا تمہیں کوئی کام نہ دے گا بلکہ تمہیں ایسا عذاب ملے گا۔اس سے بچنا ممکن نہ ہوگا اور اس وقت تمہارا کوئی مدد گار نہیں ہو گا یعنی اس وقت خدائے رحمان بھی تمہاری مدد کو نہیں پہنچے گا۔پس اگر تم اللہ تعالیٰ کی نصرت، اس کی مدد، اس کی مغفرت اور رحمت کے متلاشی ہو تو اسی دنیا میں اپنی نیتوں کو خالص کر کے تمام اعمال محض اللہ بجالا ؤ پھر اگر بشر ہونے اور ایک کمزور مخلوق ہونے کی وجہ سے تمہارے اعمال میں کوئی کوتا ہی رہ جائے تو ہم بڑے ہی بخشنے والے ہیں۔ہم تمہیں بخش دیں گے۔غرض اللہ تعالیٰ ہمیں مایوسی سے روکتا ہے اور اپنی رحمت کی طرف متوجہ کرتا ہے اور ہمیں اپنے فضل و کرم کی بڑی امید دلاتا ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہتا ہے کہ اگر تم میرا قرب ، میرا وصال اور میری رضاء چاہتے ہو تو ضروری ہے کہ تم میرے کہنے کے مطابق اعمال بجالاتے رہو اور