خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 105 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 105

خطبات ناصر جلد اول ۱۰۵ خطبہ جمعہ ۲۱؍جنوری ۱۹۶۶ء کرنے آئے ہو ہر وقت غیبت کرتا رہتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کچھ اور فرشتے ایک اور بندہ کے اعمال لے کر آسمان کی طرف چڑھے۔تُزَکیهِ وَ تُكَثِرُہ وہ فرشتے آپس میں باتیں کر رہے تھے کہ یہ اعمال بڑے پاکیزہ ہیں اور پھر یہ بندہ انہیں بڑی کثرت سے بجالا یا ہے اور چونکہ ان اعمال میں غیبت کا کوئی شائبہ نہیں تھا اس لئے پہلے آسمان کے دربان اور حاجب فرشتے نے انہیں آگے گزرنے دیا۔لیکن جب وہ دوسرے آسمان پر پہنچے تو اس کے دربان فرشتے نے انہیں پکارا ، ٹھہر جاؤ، واپس لوٹو اور ان اعمال کو ان کے بجالانے والے کے منہ پر مارو۔میں فخر و مباہات کا فرشتہ ہوں اور خدا تعالیٰ نے مجھے یہاں اس لئے مقرر کیا ہے کہ میں کسی بندے کے ایسے اعمال کو یہاں سے نہ گزرنے دوں جن میں فخر و مباہات کا بھی کوئی حصہ ہو اور وہ اپنی مجالس میں بیٹھ کر بڑے فخر سے اپنی نیکی کو بیان کرنے والا ہو۔یہ شخص جس کے اعمال لے کر تم یہاں آئے ہو۔لوگوں کی مجالس میں بیٹھ کر اپنے ان اعمال پر فخر و مباہات کا اظہار کیا کرتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا فرشتوں کا ایک اور گروہ ایک اور بندے کے اعمال لے کر آسمان کی طرف بلند ہوا اور وہ ان فرشتوں کی نگاہ میں بھی کامل نور تھے۔ان اعمال میں صدقہ و خیرات بھی تھا، روزے بھی تھے ، نمازیں بھی تھیں اور وہ محافظ فرشتے تعجب کرتے تھے کہ خدا تعالیٰ کا یہ بندہ کس طرح اپنے رب کی رضا کی خاطر محنت کرتا رہا ہے اور چونکہ ان اعمال میں غیبت کا کوئی حصہ نہیں تھا اور ان میں فخر و مباہات کا بھی کوئی حصہ نہیں تھا۔اس لئے پہلے اور دوسرے آسمان کے دربان فرشتوں نے انہیں گزرنے دیا، لیکن جب وہ تیسرے آسمان کے دروازہ پر پہنچے تو اس کے دربان فرشتہ نے کہا ٹھہر جاؤ۔اِضْرِبُوْا بِهَذَا الْعَمَلِ وَجْهَ صَاحِبِهِ کہ جس شخص کے اعمال تم خدا تعالیٰ کے حضور پیش کرنے کے لئے لے جار ہے ہو اس کے پاس واپس جاؤ اور ان اعمال کو اس کے منہ پر مارو۔میں تکبر کا فرشتہ ہوں، مجھے تیسرے آسمان کے دروازہ پر اللہ تعالیٰ نے یہ ہدایت دے کر کھڑا کیا ہے کہ اس دروازہ سے کوئی ایسا عمل آگے نہ گزرے جس کے اندر تکبر کا کوئی حصہ ہو اور یہ شخص جس کے اعمال تم اپنے ساتھ لائے ہو بڑا متکبر تھا، وہ اپنے آپ