خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 1011
خطبات ناصر جلد اول 1+11 خطبہ جمعہ ۱۵؍ دسمبر ۱۹۶۷ء ہے اس لئے بچہ کو قربان کر کے ماں کی جان بچالینی چاہیے اس وقت خود ماں بھی خدا کے حضور جھکتی ہے اور وہ جن کا تعلق اس کے ساتھ پیار اور محبت کا ہوتا ہے اور جن کے ساتھ اس کا اخوت کا تعلق ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اسلام میں پیدا کی ہے وہ بھی خدا تعالیٰ کے حضور جھکتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کی دعا کو قبول کر لیتا ہے اور خوف کی حالت کو بدل دیتا ہے۔ابھی چند ہفتے ہوئے لاہور سے ایک دوست کا خط آیا کہ میری بیوی کے کیس میں بڑی سخت پیچیدگی پیدا ہوگئی ہے جس کی وجہ سے سخت تکلیف ہے اور ڈاکٹر امید نہیں دلا ر ہے آپ دعا کریں۔چنانچہ انہوں نے بھی دعائیں کیں اور میں نے بھی ان کے لئے دعا کی اور اللہ تعالیٰ نے ایسا فضل کیا کہ عین ولادت کے وقت اللہ تعالیٰ نے اس پیچیدگی کو دور کر دیا۔چنانچہ اس دوست کی بیوی نے اسے بتایا کہ باوجود اس کے کہ پہلے اتنی سخت تکلیف تھی کہ ڈاکٹر نا امید تھے لیکن اللہ تعالیٰ کے خاص فضل سے جو عین وقت پر نازل ہوا مجھے معمولی درد بھی محسوس نہیں ہوئی اور میں ہائے ہائے صرف اس لئے کر رہی تھی کہ کہیں مجھے ان حاملہ عورتوں کی نظر نہ لگ جائے جو میرے ارد گرد بچوں کی پیدائش کا انتظار کر رہی ہیں۔تو دیکھو ایک وقت میں خوف اپنی انتہاء کو پہنچا ہوا تھا اور یہ قضا و قدر کا خوف ہے کہ ماں نے نو مہینے تک تکلیف اُٹھائی باپ نے بھی تکلیف اُٹھائی گھر کے سارے افراد ہی کچھ نہ کچھ تکلیف ایسے حالات میں اُٹھاتے ہی ہیں۔لیکن جس وقت ولادت کا وقت آیا اور بچہ کی آمد آمد پر سب خوش تھے کہ اچانک قضاء الہی سے خوف کی حالت پیدا ہو گئی۔پس اس قسم کے حالات میں اللہ تعالیٰ دعا کو قبول کرتا ہے اور اس خوف کو دور کر دیتا ہے اور اپنی قدرت کا ملہ پر محکم یقین پیدا کرتا ہے۔بعض دفعہ انسان خود خدا تعالیٰ کی خاطر رضا کارانہ طور پر خوف کے سے حالات پیدا کر لیتا ہے۔ابھی میں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی مثال دی ہے جب آپ نے اپنے گھر کا سارا اثاثہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں لا ڈالا تو دنیوی لحاظ سے یقیناً آپ نے اپنے لئے خوف کے سے حالات پیدا کر لئے کہ میں نے اپنے مال کا دھیلہ دھیلہ خدا کی راہ میں قربان کر دیا ہے ساتھ ہی آپ نے دعا کی کہ اے خدا تجھ پر ہی تو کل رکھتے ہوئے اور تجھ پر کامل یقین رکھتے ہوئے میں نے ایسا کیا ہے میرے حالات تیرے ہاتھ میں ہیں تو انہیں درست کر دے تو اللہ تعالیٰ نے اس خوف کو دور کر