خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 81 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 81

خطبات ناصر جلد اوّل ΔΙ خطبہ جمعہ ۷ /جنوری ۱۹۶۶ء اور ان کی توجہ اس طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں کہ برکت کے ایک معنی یہ بھی ہیں کہ خدا تعالیٰ کے فضل ہم پر پہلے سے زیادہ نازل ہوں اور اس میدان مجاہدہ میں اور میدانِ جہاد میں جس میں ہم قدم رکھ چکے ہیں۔ہمارے قدم آگے ہی بڑھتے چلے جائیں وہ پیچھے کی طرف کبھی نہ اٹھیں اور اس کے لئے ضروری ہے کہ ہماری کوششوں میں تنظیم پائی جائے اور ہم ایک منصوبہ بندی اور پلان (PLAN) کے ماتحت اپنی جدو جہد کو جاری رکھنے والے ہوں۔اس اصول کے مطابق میں جماعت کے تمام اداروں سے یہ کہتا ہوں کہ آئندہ چند ہفتوں کے اندر اندر وہ سال نو میں کام کرنے کا ایک منصوبہ تیار کریں اور اسے میرے سامنے رکھیں جسے میں سال کے دوران حسب ضرورت جماعت کے دوستوں کے سامنے پیش کرتا رہوں گا اور اسے پورا کرنے کی طرف ان کی توجہ مبذول کراتا رہوں گا لیکن چونکہ حضرت مصلح موعودؓ کے ارشادات پر ایک لمبا عرصہ گزر چکا ہے اور حضور کے وصال سے پہلے ایک لمبا عرصہ جماعت پر ایسا بھی گزرا ہے جس میں حضور اپنی بیماری کی وجہ سے ان تفاصیل میں جماعت کی پوری نگرانی نہیں کر سکے اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ میرا فرض ہے کہ میں مختلف اداروں کو ان کے بعض کاموں کی طرف مختصراً توجہ دلا دوں۔تفاصیل وہ اپنے طور پر طے کرلیں۔تحریک جدید کو میں اس طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ دس پندرہ روز سے یا یوں سمجھ لو کہ جلسہ سالانہ کے آخری دن سے میرے دل میں یہ خیال پیدا ہوا ہے اور میں نے اس پر کافی غور کیا ہے اور معلومات بھی حاصل کی ہیں اور میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ اس وقت افریقہ میں دو ملک ایسے پائے جاتے ہیں کہ جن کے رہنے والے لوگوں کے دلوں میں خدا تعالیٰ کے فرشتوں نے اسلام اور احمدیت کی قبولیت کے لئے ایک جذبہ اور تڑپ پیدا کر دی ہے اور ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کی روحانی پیاس کو بجھانے کے لئے ان میں زیادہ سے زیادہ مبلغ ، ڈاکٹر اور استاد بھجوائیں اور اپنی کتب اور رسالے ان تک پہنچائیں مجھے امید ہے کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے بڑی جلدی ان ملکوں میں اسلام اور احمدیت مضبوطی سے قائم ہو جائیں گے انشاء اللہ میں نے ایک دوست کو بلا کر تحریک جدید کو پہلے بھی پیغام بھجوایا ہے اور اب جماعت کے احباب کو آگاہ کرنے کے لئے خطبہ