خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 953
خطبات ناصر جلد اول ۹۵۳ خطبہ جمعہ ۲۷/اکتوبر ۱۹۶۷ء کہ وہ قو میں جنہیں اللہ تعالیٰ کے فرشتوں نے شیطانی خیالات سے ہمارے لئے آزاد کیا ہے۔کیا ہم ان تک پہنچ کر اسلام کی حسین تعلیم ان کے دلوں میں بٹھانے میں کامیاب ہوتے ہیں کہ نہیں اور اس کوشش اور جدو جہد کے لئے ان ذمہ داریوں کو ہم نبھاتے ہیں یا نہیں جو اللہ تعالیٰ نے ہم پر عائد کی ہیں اور وہ قربانیاں ہم اللہ تعالیٰ کی راہ میں دینے کے لئے تیار ہیں یا نہیں جو آج کی اسلامی ضرورت کا تقاضا ہے۔تو جیسا کہ میں نے ان قوموں کو ان الفاظ میں انذار کیا تھا کہ پیشگوئیوں کے مطابق اگلے پچیس تیس سال تمہارے لئے بہت نازک ہیں اگر تم اپنے اللہ کی طرف ، اپنے رب کی طرف رجوع نہیں کرو گے تو جیسا کہ پہلے بتایا گیا ہے تمہاری قو میں تباہ ہو جائیں گی اور اس دنیا سے مٹادی جائیں گی ویسا ہی ہم پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ ہم آج کی ضرورت کو سمجھنے لگیں یہ پچیس تیس سال ہمارے لئے بھی بڑے اہم ہیں کیونکہ ایک موقع اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا کیا ہے ان ممالک میں اسلام کو پھیلانے اور اسلام کو غالب کرنے کا اگر ہم اپنی سستیوں کے نتیجہ میں اس موقع کو گنوا دیں گے تو ایک تو شاید ( خدا نہ کرے ) غلبہ اسلام میں التواء ہو جائے غالب تو ہو گا اسلام کیونکہ خدا کا وعدہ ہے یہ ضرور پورا ہوگا لیکن ہماری غفلتوں اور کوتاہیوں کے نتیجہ میں التواء کا خطرہ ضرور موجود ہے۔تو ہمیں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنا چاہیے اور اپنے کاموں میں وسعت پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور ہمیں بین الاقوامی بلند سطح پر سوچنا چاہیے اسلام کے لئے اپنے اللہ کے لئے کہ اس کی محبت اور توحید کو ہم کس طرح دنیا میں قائم کر سکتے ہیں۔یہ کام حضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تحریک جدید کے ذریعہ لینا شروع کیا تھا۔تحریک جدید جب شروع ہوئی تو اس کا ایک ہی دفتر تھا جماعت کو اس وقت اللہ تعالیٰ نے بڑی توفیق دی جتنی مالی قربانی کا مطالبہ تھا اس سے قریباً چار گنا زیادہ مال پہلے سال خدا تعالیٰ کے ان بندوں نے اپنے امام کو پیش کر دیا تھا دنیا میں اسلام کی تبلیغ کے لئے پھر ضرورتیں بڑھتی چلی گئیں نئی نئی جگہوں پر مبلغ بھیجنے کی ضرورت محسوس ہوتی تھی اس کے لئے آدمی تیار کرنے ہوتے تھے خرچ برداشت کرنا پڑتا تھا تب وہاں جا کر تبلیغ کا کام شروع کر سکتے تھے اور جماعت کے مخلصین نے ضرورت کے مطابق مالی قربانیاں دیں اور بہت حد تک شروع میں تو شاید جتنی