خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 946
خطبات ناصر جلد اول ۹۴۶ خطبه جمعه ۲۰ ا کتوبر ۱۹۶۷ء آگے چلنے سے قبل ایک بات کی وضاحت کر دوں کہ اسلام ہمیں یہ سکھاتا ہے اور ہم تمام مسلمان یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ مسیح ناصری علیہ السلام خدا کے ایک برگزیدہ نبی تھے اور ان کی والدہ بھی نیکی میں ایک پاک نمونہ تھیں قرآن کریم نے ان دونوں کا ذکر عزت سے کیا ہے مریم علیہا السلام کو تو قرآن کریم نے پاکیزگی کی مثال کے طور پر پیش کیا ہے اور قرآن کریم میں آپ کا ذکر انجیل کی نسبت زیادہ عزت کے ساتھ کیا گیا ہے لیکن قرآن کریم ان دونوں کو معبود ماننے کے کلیسیائی عقیدے کی سختی سے تردید فرماتا ہے۔یہ بات اور عیسائی کلیسیا کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت سے انکار دو ایسے امور ہیں جو اسلام اور عیسائیت کے بنیادی اور اصولی اختلاف ہیں۔حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں:۔میں ہر دم اس فکر میں ہوں کہ ہمارا اور نصاریٰ کا کسی طرح فیصلہ ہو جائے میرا دل مردہ پرستی کے فتنہ سے خون ہوتا جاتا ہے اور میری جان عجیب تنگی میں ہے اس سے بڑھ کر اور کون سادلی درد کا مقام ہوگا کہ ایک عاجز انسان کو خدا بنایا گیا ہے اور ایک مشت خاک کو رب العالمین سمجھا گیا ہے میں کبھی کا اس غم سے فنا ہو جاتا اگر میرا مولیٰ اور میرا قادر توانا مجھے تسلی نہ دیتا کہ آخر توحید کی فتح ہے غیر معبود ہلاک ہوں گے اور جھوٹے خدا اپنی خدائی کے وجود سے منقطع کئے جائیں گے مریم کی معبودانہ زندگی پر موت آئے گی اور نیز اس کا بیٹا اب ضرور مرے گا خدا قادر فرماتا ہے کہ اگر میں چاہوں تو مریم اور اس کے بیٹے عیسی اور تمام زمین کے باشندوں کو ہلاک کروں۔سو اب اس نے چاہا ہے کہ ان دونو کی جھوٹی معبودانہ زندگی کو موت کا مزہ چکھا وے سواب دو نو مریں گے کوئی ان کو بچا نہیں سکتا اور وہ تمام خراب استعدادیں بھی مریں گی جو جھوٹے خداؤں کو قبول کر لیتی تھیں نئی زمین ہوگی اور نیا آسمان ہو گا اب وہ دن نزدیک آتے ہیں کہ جو سچائی کا آفتاب مغرب کی طرف سے چڑھے گا اور یورپ کو سچے خدا کا پتہ لگے گا اور بعد اس کے تو بہ کا دروازہ بند ہوگا۔کیونکہ داخل ہونے والے بڑے زور سے داخل ہو جائیں گے اور وہی باقی رہ جائیں گے جن کے دل پر فطرت سے دروازے بند ہیں اور نور سے نہیں بلکہ تاریکی سے محبت رکھتے ہیں